تاریخ شائع کریں۲۷ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۲:۳۵
خبر کا کوڈ : 434599

امریکہ درخواست پر روکا گیا ایرانی آئل ٹینکر آبنائے جبل الطارق سے روانہ ہوگیا

گریس ون ایرانی آئل ٹینکر جو اب ایرانی پرچم کے ساتھ آدریان دریا کے نام سے موسوم کیا گیا ہے
ایرانی آئل ٹینکر جسے برطانیہ کی بحریہ نے آبنائے جبل الطارق میں روک لیا تھا آزاد ہونے کے بعد اس علاقے سے روانہ ہو گیا ہے
امریکہ درخواست پر  روکا گیا ایرانی آئل ٹینکر آبنائے جبل الطارق سے روانہ ہوگیا
ایرانی آئل ٹینکر جسے برطانیہ کی بحریہ نے آبنائے جبل الطارق میں روک لیا تھا آزاد ہونے کے بعد اس علاقے سے روانہ ہو گیا ہے۔
گریس ون ایرانی آئل ٹینکر جو اب ایرانی پرچم کے ساتھ آدریان دریا کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ایک ماہ تک روکے رکھے جانے کے بعد جبل الطارق سے باہر جانے کی دستاویزات حاصل کرنے کے بعد اس آبی علاقے سے روانہ ہو گیا۔
اسپین کے وزیر خارجہ جوزف بوریل نے اعلان کیا ہے کہ ایران کا یہ آئل ٹینکر امریکہ کی درخواست پر روکا گیا تھا جو ایک عرصے سے ایران کے تیل کی برآمدات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
جبل الطارق کی مقامی انتظامیہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن نے آخری وقت تک اس بات کی کوشش کی کہ ایران کے اس آئل ٹینکر کو آزاد نہ کیا جائے۔
امریکہ کی خلاف ورزیوں اور حکومت برطانیہ کے اشتعال انگیز اقدامات کے باوجود جبل الطارق کی عدالت عالیہ نے جمعرات کے روز ایران کے اس آئل ٹینکر کو فوری طور پر آزاد کئے جانے کا حکم سنا دیا۔
برطانیہ کی بحریہ نے اس آئل ٹینکر کو چار جولائی کو امریکہ کی فرمانبردای کرتے اور غیر قانونی اقدامات عمل میں لاتے ہوئے ایران کے آئل ٹینکر کو آبنائے جبل الطارق میں زبردستی روک لیا تھا۔
اس غیر قانونی اقدام کے تحت آئل ٹینکر کو روکنے کے علاوہ ایرانی آئل ٹینکر کے عملے کے چار افراد کو جن میں کیپٹن بھی شامل ہے، حراست میں لے لیا گیا اور ان کے پاسپورٹ ضبط کر لئے گئے تھے۔
البتہ اب ان چاروں افراد کو بھی رہا کر دیا گیا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے آئل ٹینکر کو روکے جانے سے متعلق لندن کے اقدام کو بحری ڈکیتی سے تعبیر کرتے ہوئے اس ایرانی آئل ٹینکر کو آزاد کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے بھی ایرانی آئل ٹینکر گریس ون کی آزادی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کی عظمت و شکوہ کے مقابلے میں جھکنے پر مجبور ہوا ہے۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے ہفتے کے روز پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس میں کہا ہے کہ برطانوی حکام اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ ایران کے آج کے حالات پہلے جیسے نہیں ہیں اور ایران کی پوزیشن ماضی سے زیادہ مضبوط ہو گئی ہے یہی وجہ ہے کہ برطانیہ، بحری قزاقی سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوا ہے۔
ڈاکٹر علی لاریجانی نے وائٹ ہاؤس کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ سمجھتے ہو کہ اس قسم کے اقدامات سے طاقت کا مظاہرہ ہوتا ہے تو تمھیں سمجھ لینا چاہئے ایرانی عوام تمہارے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں۔ 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس