تاریخ شائع کریں۲۷ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۵۷
خبر کا کوڈ : 434561

الحدیدہ پر حملوں کے جواب میں جیزان میں سعودی فوج پر شدید بمباری

سعودی اتحاد نے الحدیدہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی علاقوں پر شدید گولہ باری
اتوار کو بھی جنگ یمن کے مختلف سیکٹروں پر یمنی افواج کی جوابی کارروائیوں میں سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے درجنوں فوجی ہلاک ہوئے ہیں
الحدیدہ پر حملوں کے جواب میں جیزان میں سعودی فوج پر شدید بمباری
اتوار کو بھی جنگ یمن کے مختلف سیکٹروں پر یمنی افواج کی جوابی کارروائیوں میں سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے درجنوں فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جارح سعودی اتحاد نے الحدیدہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی علاقوں پر شدید گولہ باری کی ہے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جنوبی سعودی عرب میں جیزان کے علاقے دایر میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لئے سعودی فوجیوں کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس اور سعودی فوجیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سعودی اور سعودی اتحاد کے دسیوں فوجی ہلاک ہو گئے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے یمن کے صوبے الجوف نے الساقیہ مورچے پر سعودی اتحاد کے فوجیوں کی گاڑی کے راستے میں بم دھماکہ کر کے متعدد آلہ کار فوجیوں کو ہلاک و زخمی کر دیا۔
دوسری جانب جارح سعودی اتحاد نے ہفتے کی رات فائر بندی کی ایک بار پھر خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی یمن کے صوبے الحدیدہ کے التحیتا اور الدریہمی نامی علاقوں پر گولہ باری کی۔
المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق شہر الحدیدہ میں سات جون نامی محلے میں یمنی شہریوں کے گھروں پر گولہ باری کی جس میں کئی یمنی عام شہری زخمی ہو گئے۔ جارح آلہ کار فوجیوں کی فائرنگ میں بھی ایک یمنی نوجوان التحیتا کے علاقے میں زخمی ہو گیا۔
جارح فوجیوں نے شہر التحیتا کے جنوبی علاقے پر چالیس سے زائد گولے بھی برسائے۔
اسٹاک ہوم سمجھوتے کی بنیاد پر اٹھارہ دسمبر دو ہزار اٹھارہ سے الحدیدہ میں فائر بندی کے سمجھوتے پر عمل درآمد شروع کئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا مگر جب سے ہی سعودی اتحاد کی جانب سے اس فائربندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
حالانکہ الحدیدہ ہی واحد ایسا ذریعہ ہے کہ جس راستے سے یمن کے لئے انسان دوستانہ امداد ارسال کی جا سکتی ہے۔
یمن میں جب بھی فائر بندی کی راہ ہموار ہوئی ہے سعودی اتحاد کی خلا ف ورزیوں کی بنا پر وہ شکست سے دوچار ہوتی رہی ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ حالیہ مہینوں میں سعودی عرب کے فوجی ہوائی اڈوں اور حساس فوجی ٹھکانوں پر یمنی فورسز کے ڈرون حملے آل سعود کے لئے ایک ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو چکے ہیں جنہیں روکنے میں وہ اب تک ناکام رہی ہے۔
ادھر یمنی فوج کے اسنائپروں نے یمن کے صوبہ حجہ میں سعودی فوجیوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ سعودی فوجی ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلت اور طبی سہولتوں اور دواؤں کے فقدان کا سامنا ہے۔
سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات، اسپتال اور حتی مسجدوں کو بھی منہدم کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود وہ جنگ میں اپنے اہداف تک پہنچنے میں بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس