تاریخ شائع کریں۲۴ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۰:۱۷
خبر کا کوڈ : 434255

یورپ ایٹمی معاہدے کی حمایت کرتا اور خود کو اس کا پابند سمجھتا پے

یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کے نئے سربراہ جوزف بورل نے جوجلد ہی فیڈریکا موگرینی کی جگہ سنبھال لی
یورپی یونین اور جرمنی فرانس اور برطانیہ پر مشتمل ٹرائیکا نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی حمایت کریں گے اور خود کو اس پر عمل درآمد کا پابند سمجھتے ہیں
یورپ ایٹمی معاہدے کی حمایت کرتا اور خود کو اس کا پابند سمجھتا پے
یورپی یونین اور جرمنی فرانس اور برطانیہ پر مشتمل ٹرائیکا نے ایک بار پھر دعوی کیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کی حمایت کریں گے اور خود کو اس پر عمل درآمد کا پابند سمجھتے ہیں۔
یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کے نئے سربراہ جوزف بورل نے جوجلد ہی فیڈریکا موگرینی کی جگہ اس عہدے کا چارج سنبھالنے والے ہیں ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لئے کوششوں کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ یورپی یونین کے شعبہ خارجہ پالیسی کے نئے سربراہ جوزف بورل نے ہسپانوی اخبار ال پائیس میں چھپے اپنے مقالے میں لکھا  ہے کہ ہمیں چاہئے کہ مذاکرات کا نیا ماحول تیار کریں تاکہ ایٹمی معاہدے کو دوبارہ فعال بنایا جاسکے۔ انہوں نے اپنے مقالے میں لکھا کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں ایٹمی معاہدے کے عدم پھیلاؤ سے متعلق سمجھوتے نابودی کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں اور کثیرفریقی معاہدے کے ذمہ دار ا داروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ایسے میں ایٹمی معاہدے جیسے عظیم سرمائے کی حفاظت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدہ طویل اور زحمت طلب مذاکرات کے بعد طے پایا ہے کہا کہ اس معاہدے کا اصل مقصد صرف ایران کے ایٹمی پروگرام پر توجہ رکھنا تھا اور دیگر بہت سے مسائل کو اس معاہدے کے مذاکرات سے الگ کردیا گیا تھا۔ فرانس نے بھی کہا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کی پوری کوشش کرے گا۔ فرانس کی وزارت خارجہ کی ترجمان اگنیس ونڈر مول  نے اپنے تازہ ترین بیان میں دعوی کیا ہے کہ پیرس ٹرائیکا میں شامل دو دیگر ملکوں جرمنی اور برطانیہ کے ساتھ مل کر ایٹمی معاہدے میں ایران کو دئے گئے  اقتصادی فوائد کی تکمیل کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی مالیاتی سسٹم انسٹیکس آپریشنل ہوگیا ہے اور ضروری امور میں ٹرانزیکشن  کے لئے رقم بھی مہیا ہوچکی ہے۔ فرانسیسی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان نے دعوی کیا کہ ایٹمی معاہدے میں ایران کو دئے گئے اقتصادی فوائد کے تحفظ کی ذمہ داری صرف یورپی ملکوں پر ہی عائد نہیں ہوتی ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی چاہئے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس  کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو  پورا کرے۔ واضح رہے کہ ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے بعد جرمنی برطانیہ اور فرانس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایران کے اقتصادی مفادات کو پورا کرکے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھیں گے۔ یورپی یونین اور یورپی ٹرائیکا ایٹمی معاہدے کو کثیر فریقی معاہدے کی ایک بہترین مثال قرار دیتے ہیں جس نے بین الاقوامی امن و صلح کی برقراری میں کافی مدد کی ہے۔ یورپی ملکوں کے نقطہ نگاہ سے ایٹمی معاہدہ یورپ کی سفارتکاری کی ایک بڑی کامیابی ہے اور اگر یہ معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو بین الاقوامی سطح پر یورپی یونین کی سیاسی اور سفارتی پوزیشن کو کافی نقصان پہنچے گا اور یہ یورپ کی ایک بڑی شکست ہوگی۔ ان تمام باتوں کے  باوجود ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے ڈیڑھ سال بعد بھی یورپی ملکوں نے ایران کو اقتصادی فائدہ پہنچانے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا جبکہ انہوں نے وعدہ کیاتھا کہ امریکا کے ذریعے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد ہونے سے تہران کو جو نقصانات ہوں گے یورپ اس کی تلافی کرے گا۔ یورپ نے حتی انسٹیکس کو بھی ابھی تک پوری طرح آپریشنل نہیں کیا ہے۔ انہی مسائل کی بنا پر ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور تہران نے اب تک دو مرحلوں میں ایٹمی معاہدے میں اپنے بعض وعدوں پر عمل درآمد کو معطل کردیا ہے جس کا حق خود ایٹمی معاہدے میں ایران کو دیا گیا تھا اور ایران نے دوسرے مرحلے میں بھی یورپ کو ساٹھ دن کی جو مہلت دی تھی وہ بھی اب ختم ہونے والی ہے۔ اس طرح یورپ اور یورپی ٹرائیکا کے لئے وقت تیزی کے ساتھ گذرتا جارہا ہے۔ اسی تناظر میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں اپنے تازہ ترین موقف میں کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے سے متعلق وعدوں کو معطل رکھنے کے دوران بھی ہم مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں لیکن اگر دوسری ساٹھ روزہ مہلت میں بھی ہم کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکے تو یقینی طور پر تیسرے مرحلے کا بھی آغاز ہوگا اور اس کے  بعد پھر ساٹھ روز کی مہلت دی جائے گی تاکہ منطقی،  صحیح اور متوازن راہ حل تک پہنچ سکیں اور وعدے کے مقابلے میں وعدے کے اصول پرقائم رہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس