تاریخ شائع کریں۲۲ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۲۷
خبر کا کوڈ : 434047

شہید برھان الدین ربانی کی کوششیں اتحاد کے فروغ کا بڑا سبب ہیں

شہید برھان الدین ربانی کی کوششیں اتحاد کے فروغ کا بڑا سبب ہیں
شہید برھان الدین  افغانستان کے سابق صدر رہ چکے ھے جو افغانستان کی سیاست میں جانا مانا چہرہ سمجھا جاتے تھے اور آپ کی وحدت اور اتحاد سے متعلق کاوشیں مسلم دنیا میں خاص مقام رکھتی ہیں
شہید برھان الدین ربانی کی کوششیں اتحاد کے فروغ کا بڑا سبب ہیں
شہید برھان الدین ربانی کی کوششیں اتحاد کے فروغ کا بڑا سبب ہیں
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق مسلمانوں میں وحدت کی اہمیت کو فروغ دینے کے عنوان سے علماء اور دانشمندوں کی آراء کو پیش کیا جارہا ہےکیوں کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت اور اپنی صفوں میں نظم بہت ہی ضروری ہے اور یہ عالم اسلام کے دلسوز شخصیات کی دلی آرزو ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اسلامی ایران کا بھی ہدف ہے ۔
لیکن بعض افراد گمان کرتے ہیں کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرکے دوسرے مذہب کو اختیار کریا جائے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن فکر ہے۔
اس مقدس ہدف کی بنیاد قرآن و سنت ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آس میں تفرقہ ایجاد نہ کریں، کیوں کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اللہ کی عنایات میں کمی کا باعث ہے اور مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔
اگرمسلمانوں کے درمیان مشترکات پر ذرا بھی فکر کی جائے  تو معلوم ہوگا کہ ہمارے درمیان 90٪  اعتقادی اشتراکات پائے جاتے ہیں جس کو سنی و شیعہ دونوں علماء قبول کرتے ہیں۔
شہید برھان الدین  افغانستان کے سابق صدر رہ چکے ھے جو افغانستان کی سیاست میں جانا مانا چہرہ سمجھا جاتے تھے اور آپ کی وحدت اور اتحاد سے متعلق کاوشیں مسلم دنیا میں خاص مقام رکھتی ہیں۔
آپ کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں میں مذہبی تفرقہ اور قومی تعصب باعث بنا ہے کہ اغیار نے مسلمان ممالک پر حملہ کیا اور غارت گری تباہی مچا کر مسلمانوں کے قتل عام کررہا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس