تاریخ شائع کریں۲۲ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۳۹
خبر کا کوڈ : 434034

امریکہ کے خود ساختہ فوجی اتحاد کی تشکیل اسرائیلی خواہش پر کیا گیا ہے

عراق کے وزیر خارجہ نے خلیج فارس میں امریکہ کے خودساختہ فوجی اتحاد کی تشکیل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا
امریکہ نے حالیہ مہینوں کے دوران ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی غرض سے خلیج فارس کے علاقے میں اپنی فوجی موجودگی میں کافی اضافہ کیا ہے اور وہ اپنے اتحادیوں منجملہ برطانیہ کے ساتھ مل کر اشتعال انگیز اقدامات عمل میں لا رہا ہے
امریکہ کے خود ساختہ فوجی اتحاد کی تشکیل اسرائیلی خواہش پر کیا گیا ہے
عراق کے وزیر خارجہ نے خلیج فارس میں امریکہ کے خودساختہ فوجی اتحاد کی تشکیل پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ علاقے میں مغربی ملکوں کی فوجی موجودگی کشیدگی کا باعث ہے۔
امریکہ نے حالیہ مہینوں کے دوران ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے کی غرض سے خلیج فارس کے علاقے میں اپنی فوجی موجودگی میں کافی اضافہ کیا ہے اور وہ اپنے اتحادیوں منجملہ برطانیہ کے ساتھ مل کر اشتعال انگیز اقدامات عمل میں لا رہا ہے۔
اسی سلسلے میں امریکیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ خلیج فارس میں ایک فوجی اتحاد تشکیل دے رہے ہیں۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق عراق کے وزیر خارجہ محمد علی الحکیم نے پیر کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں خلیج فارس کے علاقے میں امریکہ کے خود ساختہ فوجی اتحاد کی تشکیل میں اسرائیل کی ممکنہ شمولیت پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عراق، اس فوجی اتحاد میں صیہونی حکومت کی شمولیت کے خلاف ہے۔
انھوں نے تاکید کی ہے کہ عراق، علاقے میں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کئے جانے کا خواہاں ہے۔واضح رہے کہ غاصب صیہونی حکومت کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی اتحاد میں اسرائیل بھی شامل ہو گا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس