تاریخ شائع کریں۲۲ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۱۶
خبر کا کوڈ : 434028

اتحادیوں اور دوستوں سے چاہتے ہیں وہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھایئں

ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی اسلحہ جاتی پابندیوں کی مدت ختم ہونے کا وقت قریب آرہا ہے
ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی اسلحہ جاتی پابندیوں کی مدت ختم ہونے کا وقت قریب آنے کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیئو نے اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھا دیں
اتحادیوں اور دوستوں سے چاہتے ہیں وہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھایئں
ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی اسلحہ جاتی پابندیوں کی مدت ختم ہونے کا وقت قریب آنے کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیئو نے اپنے اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دباؤ بڑھا دیں۔
امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپئو نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی اسلحہ جاتی پابندیوں کی مدت ختم ہونے کا وقت قریب آرہا ہے اور جنرل قاسم سلیمانی کے سفر پر پابندی بھی ختم ہونے کا وقت قریب آرہا ہے اس لئے ہم اپنے اتحادیوں اور دوستوں سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ ایرانی حکومت کے خلاف دباؤ بڑھا دیں-
مائیک پمپیؤ نے امریکی وزرات خارجہ کی سائٹ کا لنک بھی اپنے ٹویٹ میں شامل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایران کے خلاف اسلحہ جاتی پابندیوں کی مدت ختم ہونے کا وقت قریب آرہا ہے اور یہ پابندی اٹھارہ اکتوبر دو ہزار بیس کو ختم ہو جائے گی جس کے بعد ایران اپنے ہتھیاروں کو فروخت اور چین و روس جیسے ملکوں سے اسلحے خرید سکے گا-
اقوام متحدہ کی جانب سے اسلحہ جاتی پابندیوں کی مدت ختم ہونے پر امریکا کو تشویش ایک ایسے وقت ہے جب امریکی حکومت نے خود دو ہزار اٹھارہ کو ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا تھا اور اس نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی کے تحت تہران کے خلاف ساری پابندیاں دوبارہ عائد کر دی تھیں- اس درمیان برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں لندن کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے-
ایف ایکس اسٹریٹ ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے ایک ترجمان نے سیکورٹی مسائل منجملہ ایران کے بارے میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور امریکی قومی سلامتی کے امور کے مشیر جان بولٹن کے مابین ہونے والے مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور ایٹمی معاہدے کے بارے میں برطانیہ کا موقف تبدیل نہیں ہوا ہے-
جان بولٹن نے بھی جنھوں نے اپنے دورہ لندن میں برطانیہ سے کہا تھا کہ ایران کے بارے میں سخت ترین موقف اپنا کر ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی واشنگٹن کی کمپیئن میں مدد کریں، اپنی اس درخواست کے برخلاف کہا ہے کہ بہتر ہے کہ ایران کے بارے میں صلاح ومشورہ بعد کے وقت کے لئے موخرکر دیں-
جان بولٹن منگل کو بھی برطانیہ کے مختلف اعلی عہدیداروں منجملہ برطانوی وزیر دفاع سے ملاقات کر رہے ہیں- اس درمیان بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے برطانوی وزیراعظم جانسن سے ٹیلی فونی گفتگو میں کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے کا پابند ہے- برطانوی وزیراعظم کا یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب لندن اور اس کے دیگر یورپی اتحادیوں نے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے سلسلے میں کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس