تاریخ شائع کریں۲۱ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۵۰
خبر کا کوڈ : 433873

فرانس کی جانب سے اب تک یورپی وعدوں کے تحفظ کی پیشکش نہیں کی گئی

امریکی نیوز ویب المانیٹر سمیت بعض ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یورپ کی جانب سے وعدہ خلافیوں کے ازالے کی غرض سے کسی بھی قسم کی حتمی اور قابل غور پیشکش سے متعلق خبروں کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے
فرانس کی جانب سے اب تک یورپی وعدوں کے تحفظ کی پیشکش نہیں کی گئی
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یورپ کی جانب سے وعدہ خلافیوں کے ازالے کی غرض سے کسی بھی قسم کی حتمی اور قابل غور پیشکش سے متعلق خبروں کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا ہے۔
امریکی نیوز ویب المانیٹر سمیت بعض ذرائع ابلاغ نے دعوی کیا ہے کہ ایرانی اور فرانسیسی کے صدور کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی حالیہ گفتگو میں پیرس کی جانب سے ایران کو تجاویز پیش کی گئی ہیں۔رپورٹوں میں دعوی کیا گیا ہے کہ صدر عمانوئیل میکرون نے صدر حسن روحانی کو جی سیون کے اجلاس میں شرکت کی دعوت اور ایران کے ساتھ تجارتی لین دین کے لیے قائم کیے جانے والے خصوصی یورپی نظام انسٹیکس کو فعال بنانے کی غرض سے پندرہ ارب ڈالر کے بینک کھاتے کھولنے کی پیشکش کی ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس موسوی نے  فرانس کی جانب سے مذکورہ تجاویز کے بارے میں شائع ہونے والی رپورٹوں کو قیاس آرائی قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ایران کی اپنے فرانسیسی ہم منصب کے ساتھ اب تک کئی بار ٹیلی فون پر بات چیت ہوچکی ہے جن میں متعدد تجاویز ضرور پیش کی گئیں لیکن ان میں سے کوئی بھی حتمی نہ تھی۔سید عباس موسوی نے کہا کہ یورپ کی وعدہ خلافیوں پر ایران کے شدید ردعمل کے بعد بعص یورپی ممالک نے مشکلات کے حل کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چار جمع ایک گروپ کے ایک رکن کی حیثیت سے فرانس کے صدر نے کشیدگی کے خاتمے کے لیے کچھ اقدامات شروع کیے ہیں اور ایران نے بھی ان کا خیرمقدم کیا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ فرانس کی ان ہی کوششوں کے تحت، صدر میکرون کے خصوصی ایلچی نے ایران کا دورہ کیا تھا اور ایران کے نائب وزیر خارجہ نے صدر ایران کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے فرانس کے صدر کے ساتھ ملاقات اور انہیں ڈاکٹر حسن روحانی کا خصوصی پیغام پہنچایا تھا۔قابل ذکر ہے کہ فرانسس کے صدر نے حالیہ دنوں میں صدر ایران کے ساتھ تین بار ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے جس میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ان کا ملک دیگر یورپی ممالک کے ساتھ ملکر ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے کے تحفظ کے لیے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا لیکن تاحال یورپ کی جانب سے ٹھوس اور عملی اقدامات کا مشاہدہ نہیں کیا گیا ہے۔صدر ایران نے فرانسیسی صدر پر واضح کیا تھا کہ ایران کی جانب سے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرنا، جبکہ دوسرے فریقوں کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہ کرنا ایرانی عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس