تاریخ شائع کریں۲۰ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۳۷
خبر کا کوڈ : 433801

مذاہب اسلامی کے پیراوان اجتھاد کو عین دین تصور نہ کریں

وحدت کی اہمیت کو فروغ دینے کے عنوان سے علماء اور دانشمندوں کی آراء کو پیش کیا جارہا ہے
لیکن بعض افراد گمان کرتے ہیں کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرکے دوسرے مذہب کو اختیار کریا جائے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن فکر ہے
مذاہب اسلامی کے پیراوان اجتھاد کو عین دین تصور نہ کریں
مذاہب اسلامی کے پیراوان اجتھاد کو عین توصر نہ کرے

تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق ،مسلمانوں میں وحدت کی اہمیت کو فروغ دینے کے عنوان سے علماء اور دانشمندوں کی آراء کو پیش کیا جارہا ہے کیوں کہ دشمن کے مقابلے میں وحدت اور اپنی صفوں میں نظم بہت ہی ضروری ہے اور یہ عالم اسلام کے دلسوز شخصیات کی دلی آرزو ہونے کے ساتھ ساتھ جمہوری اسلامی ایران کا بھی ہدف ہے ۔
لیکن بعض افراد گمان کرتے ہیں کہ وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے عقائد سے چشم پوشی کرکے دوسرے مذہب کو اختیار کریا جائے، جو کہ سراسر غلط اور گمراہ کن فکر ہے۔
اس مقدس ہدف کی بنیاد قرآن و سنت ہے جس میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ آس میں تفرقہ ایجاد نہ کریں، کیوں کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اللہ کی عنایات میں کمی کا باعث ہے اور مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔
آیت اللہ آصف محسنی نے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور اخوت کے فروغ کیلیے خاطر خواہ کوششیں کی ہیں آپ مسلمانوں کے درمیان وحدت کے حوالے سے فرمایا کرتے تھے۔
علامہ محمد تقی جعفری تقریب مذاہب اسلامی کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں،مسلمان اجتھادی اور انفرادی نظر کو عین دین تصور نہ کریں اور مخالفت کی صورت میں ایک دوسرے کو کارج از دین تصور نہ کرے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس