تاریخ شائع کریں۲۰ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۲۷
خبر کا کوڈ : 433779

امریکی میزائیل پروگرام میں تیزی کے باعث روس بھی میزائل کی پیداوار بڑھا سکتا ہے

امریکی میزائلوں کی تعیناتی و پیداواری سرگرمیوں پر ماسکو گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
روس کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ روسی صدر پوتن کی ہدایات پر دور اور کم دوری پر مار کرنے والے امریکی میزائلوں کی تعیناتی و پیداواری سرگرمیوں پر ماسکو گہری نظر رکھے ہوئے ہے
امریکی میزائیل پروگرام میں تیزی کے باعث روس بھی میزائل کی پیداوار بڑھا سکتا ہے
روس کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ روسی صدر پوتن کی ہدایات پر دور اور کم دوری پر مار کرنے والے امریکی میزائلوں کی تعیناتی و پیداواری سرگرمیوں پر ماسکو گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ماریا زاخارووا نے تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ امریکہ نے اگر اپنے میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا تو روس بھی اپنی سلامتی کے پیش نظر جوابی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جائے گا۔
امریکی وزارت جنگ نے آئی این ایف معاہدے سے علیحدگی کے بعد اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن نئے میزائل تیار کرے گا۔
امریکی وزیر خارجہ نے دو اگست کو آئی این ایف معاہدے سے امریکہ کی باضابطہ طور پر علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ روس نے امریکہ کے اس اقدام کو ایک بڑی غلطی سے تعبیر کیا ہے۔
ایران کے وزیر حارجہ محمد جواد ظریف نے امریکہ سے کہا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں سے علیحدگی اور اقتصادی دہشت گردی کے بجائے وہ دنیا میں پائے جانے والے نئے حقائق کو سمجھ کو ان کے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس