تاریخ شائع کریں۱۹ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۳۴
خبر کا کوڈ : 433640

یمن جنگ میں سعودی عرب کی شکست اسرائیل کے لیے پریشانی کا باعث ہے

اسرائیلی تجزیہ نگار یارون فریڈ مین کا خیال ہے کہ جنگ یمن ظاہری طور پر اسرائیل سے فاصلے پر پیدا یک بحران ہے
اسرائیل 36 برسوں سے حزب اللہ کے خلاف جنگ میں شکست کھا رہا ہے اور سعودی عرب بھی حوثیوں کے ساتھ جنگ میں ناکام رہا ہے
یمن جنگ میں سعودی عرب کی شکست اسرائیل کے لیے پریشانی کا باعث ہے
اسرائیلی اخبار کے ایک تجزیہ نگار نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان متعدد اشتراکات کا دلچسپ انداز میں ذکر کیا ہے ۔
ایک اسرائیلی تجزیہ نگار نے کہا ہے کہ اسرائیل 36 برسوں سے حزب اللہ کے خلاف جنگ میں شکست کھا رہا ہے اور سعودی عرب بھی حوثیوں کے ساتھ جنگ میں ناکام رہا ہے۔
اسرائیلی تجزیہ نگار یارون فریڈ مین کا خیال ہے کہ جنگ یمن ظاہری طور پر اسرائیل سے فاصلے پر پیدا ہونے والا ایک بحران ہے اور اس سے متعلق نہیں ہے تاہم متعدد وجوہات سے یہ جنگ اسرائیل کے لئے بہت اہم ہونی چاہئے۔
فریڈ مین نے اسرائیلی اخبار یدیعوت احارنوت میں اپنے مقالے میں لکھا کہ اسرائیل اور سعودی عرب، علاقے میں امریکا کے دو اہم اتحادی ہیں اور دونوں کو ہی ایران سے نکلی شاخوں یعنی، حزب اللہ اور الحوثی سے سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان سے جنگ کے لئے بہت وقت بھی درکار ہے۔ ان دونوں تنظیموں کو ایک وار میں ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ اسرائیل نے 36 سال پہلے حزب اللہ کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا لیکن آج تک اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ جنگ کب ختم ہوگی ؟ تو پھر سعودی عرب کیسے کامیاب ہو سکتا ہے؟
اسرائیلی تجزیہ نگار فریڈمین نے لکھا کہ یمن کے ایران کی چھاونی بن جانے سے صرف سعودی عرب کو ہی خطرہ نہیں ہے بلکہ یہ عدن اور آبنائے باب المندب سے بحیرہ احمر جانے والے آئیل ٹینکروں کے راستے کے لئے بھی خطرہ ہے جس سے پوری دنیا کے اقتصاد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
سعودی عرب نے یمن کے الحوثیوں کے خلاف اتحاد بنایا تاہم سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیارے اس جنگ کو فیصلہ کن موڑ تک نہیں پہنچا سکتے۔
اس اسرائیلی تجزیہ نگار نے لکھا کہ یمن میں جنگ نے سعودی عرب میں حالات خراب دیئے اب جب بھی سعودی عرب یمن پر بمباری کرتا ہے، یمنیوں کے میزائل جنوبی سعودی عرب پر گرتے ہیں اور الحوثیوں کے میزائلوں نے سعودی عرب کی نیند اڑا دی ہے۔ 
حوثیوں کے پاس ایسے ڈرون طیارے بھی ہیں جو دھماکہ خیز مواد بھی لے جا سکتے ہیں ۔ فریڈمین نے لکھا کہ اگر جنگ یمن جاری رہی تو سعودی عرب کی فوج اور شبیہ کو کافی نقصان پہنچے گا کیونکہ اس کا مطلب مشرق وسطی بہت طاقتور فوج کی حوثی جیسے ایک کمزور تنظیم سے شکست ہے۔ یہ وہی حالت ہے جو حزب اللہ کے بارے میں اسرائیل کو پریشان کرتی ہے۔ لبنان کی دوسری جنگ میں جس طرح سے حزب اللہ نے مقابلہ کیا ہے وہ اس کے لئے فتح تھی کیونکہ اسرائیل، حزب اللہ کے خاتمے میں ناکام رہا ۔
اسرائیلی تجزیہ نگار فریڈمین نے لکھا کہ حزب اللہ، اسرائیل سے جنگ کے لئے تیار ہے، بس وقت کا انتظار کر رہا ہے اور اسرائیل کے خلاف اگلا محاذ، جولان کی پہاڑیوں میں کھولا جائے گا جہاں سڑکوں سے اسے ضروری سامان ملتا رہے گا۔
تہران کو بھی امید ہے کہ وہ عراق کے راستے سے ایران سے لے کر شام تک سڑک رابطہ بنانے میں کامیاب ہوگا اب اگر امریکی فوجی، شمال مشرقی شام سے نکل جاتے ہیں تو ایران کا یہ مقصد آسانی سے پورا ہو جائے گا ۔
اس اسرائیلی تجزیہ نگار نے آخر میں لکھا کہ سعودی عرب کے مسائل، اسرائیل کے بھی مسائل ہیں ۔ حوثی اور حزب اللہ علاقے میں ایران کی شاخیں ہیں، جیسا کہ حزب اللہ، حوثیوں کی جنگ سے کچھ سیکھ رہا ہے، اسرائیل کو بھی سعودی عرب کی کامیابیوں سے سبق سیکھ لینا چاہئے اور کتنا اچھا ہوتا اگر اسرائیل اور سعودی عرب، شیعہ تنظیموں کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ۔ کیا اسرائیل اس کے لئے اس وقت کا انتظار کرے جب حزب اللہ ایک جنگ کی شروعات کر دے؟ یہ یقینی طور پر ایران کی ایک بڑی کامیابی ہے ۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس