تاریخ شائع کریں۱۷ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۲:۲۱
خبر کا کوڈ : 433435

کشمیر سے متعلق دفعہ 370 اے بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج

حکومت کی طرف سے اختیار کئے گئے طریقہ کار کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت عظمی میں عرضی دائر کی ہے
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آئین کی دفعہ 370کی توضیعات کو بے اثر کرنے مرکزی حکومت کے قدم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے
کشمیر سے متعلق دفعہ 370  اے  بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آئین کی دفعہ 370کی توضیعات کو بے اثر کرنے مرکزی حکومت کے قدم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
ہندوستان کے وکیل منوہر لال شرما نے حکومت کی طرف سے اختیار کئے گئے طریقہ کار کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت عظمی میں عرضی دائر کی ہے۔ مسٹر شرما نے اپنی عرضی میں دفعہ 370 کو ہٹانے کے صدارتی حکم کے نوٹیفکیشن کو آئین کی بنیادی روح کے خلاف قرار دیا ہے۔انہوں نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ دفعہ 370 کو ہٹانے کے لئے حکومت کی طرف سے کی گئی آئینی ترمیم غیر آئینی ہے اور حکومت نے من مانے اور غیر آئینی طریقے سے یہ کام کیا ہے۔
عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت اس نوٹیفیکشن کو غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کرے۔
ادھر کانگریس پارٹی کے رہنما اور سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی کا کہنا ہے کہ کشمیری رہنماؤں کو قید کرنا احمقانہ، غیرجمہوری اور غیر آئینی اقدام ہے۔
ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے قومی یکجہتی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ قوم لوگوں سے بنتی ہے، زمین کے ٹکڑوں سے نہیں۔ منتخب نمائندوں کو قید کرنا اور غیر آئینی اقدامات سے قوم نہیں بنتی۔
راہول گاندھی کا مزید کہنا تھا کہ طاقت کے غلط استعمال سے قومی سلامتی پر خطرناک نتائج نکلیں گے۔
خیال رہے کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ سے بل پاس ہونے کے بعد اس ملک کے صدر رام ناتھ کووند نےاس نوٹیفیکیشن پر دستخط کردیئے جس کے ساتھ ہی کشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ ختم ہوگیا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس