تاریخ شائع کریں۱۶ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۶:۳۲
خبر کا کوڈ : 433367

امریکی حکام نسلی امتیاز اور تشدد کے خاتمے کے لئے مثبت قدم اٹھائیں

امریکا میں فائرنگ کے حالیہ خونریز واقعات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پوری دنیا کے حکام سے کہا
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے ترجمان نے امریکا میں فائرنگ کے حالیہ خونریز واقعات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پوری دنیا کے حکام سے کہا
امریکی حکام نسلی امتیاز اور تشدد کے خاتمے کے لئے مثبت قدم اٹھائیں
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے ترجمان نے امریکا میں فائرنگ کے حالیہ خونریز واقعات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پوری دنیا کے حکام سے کہا ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دینے سے گریز کریں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے ترجمان  روپرٹ کولوپل نے کہا ہے کہ ہم نسل پرستی، تعصب اور دیگر قوموں کے خلاف نفرت انگیزی کی ہر شکل میں مذمت کرتے ہیں خواہ وہ سفید فام نسلی برتری کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو-
انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کے حکام منجملہ امریکی حکام سے کہنا چاہتے ہیں کہ نسلی امتیاز اور تشدد کے خاتمے کے لئے مثبت قدم اٹھائیں- یو این ہائی کمیشن فار ہیومن رائٹس کے ترجمان روپرٹ کولوپل نے کہا سوشل میڈیا میں نفرت کی ترویج پر نظر رکھنے والا قانون ایسا ہونا چاہئے جو آزادی بیان کے حق میں توازن کو برقرار رکھے-
انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ تارکین وطن کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات سے نسل پرستی میں اضافہ ہوا ہے کہا کہ ہمیں اس بات پر تشویش ہے کہ اس طرح کے بیانات سے نہ صرف اقلیتیں، تارکین وطن، پناہ گزیں  اور خواتین بدنام اور مثبت انسانی ماحول سے محروم ہوں گی بلکہ اس سے پورے معاشرے کو خطرہ بھی لاحق ہو جائے گا-
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے اور اتوار کو امریکی ریاستوں، ٹیکساس، اوہائیو اور شیکاگو شہر  میں فائرنگ کے دو تین بڑے خونریز واقعات رونما ہوئے جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے جبکہ مجموعی طور پران واقعات میں تیس سے زائد افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہو گئے تھے-
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس