تاریخ شائع کریں۱۲ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۵۳
خبر کا کوڈ : 432654

پینٹاگون نئے ایٹمی میزائل تیار کرے گا

واشنگٹن سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے جمعے کی رات اعلان کیا
روس اور امریکا کے درمیان درمیانی مار کے ایٹمی میزائلوں سے متعلق آئی این ایف معاہدہ ختم ہونے کے بعد امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے نئے ایٹمی میزائلوں کی تیاری کا اعلان کیا ہے
پینٹاگون نئے ایٹمی میزائل تیار کرے گا
روس اور امریکا کے درمیان درمیانی مار کے ایٹمی میزائلوں سے متعلق آئی این ایف معاہدہ ختم ہونے کے بعد امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے نئے ایٹمی میزائلوں کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔
واشنگٹن سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے جمعے کی رات اعلان کیا کہ اب امریکا زمین سے داغے جانے والے ایسے ایٹمی میزائلوں کی توسیع کے پروگرام پر عمل کرے گا جن کی تیاری پر آئی این ایف معاہدے میں پابندی تھی۔ 
قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپؤ نے جمعے کو آئی این ایف معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کا باضابطہ اعلان کیا۔ 
آئی این ایف معاہدے سے امریکا کے نکل جانے کے اعلان کے بعد روس کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کرکے، امریکا کے اس فیصلے کو بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے ، روس کے بھی اس معاہدے سے نکل جانے کا اعلان کردیا جس کے بعد درمیانہ فاصلے تک مارے کرنے والے ایٹمی میزائلوں سے متعلق آئی این ایف معاہدہ عملی طور پر ختم ہوگیا۔ آئی این ایف معاہدہ ختم ہونے کے بعد معاہدہ شمالی اقیانوس نیٹو کے بعض اراکین اور یورپ نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے امریکا کو نصحیت کی ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں سے نکلنے اور اقتصادی دہشت گردی کا سلسلہ بند کرکے دنیا کے نئے حقائق کو تسلیم کرے۔ 
چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چو یینگ نے بھی ایک پریس کانفرنس میں، آئی این ایف معاہدے سے امریکا کے نکل جانے پر سخت تنقید کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ امریکا اس معاہدے سے نکل کے اسلحہ جاتی برتری کی فکر میں ہے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ امریکا کے اس اقدام سے بین الاقوامی میدان میں بے اعتمادی میں اضافہ ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ حکومت اب تک بہت سے دو فریقی اور کثیر فریقی بین الاقوامی معاہدوں سے نکل چکی ہے۔ 
آئی این ایف معاہدے پر امریکا اور سویت یونین نے انیس سو ستاسی میں دستخط کئے تھے اور انیس سو اٹھاسی سے اس پر عمل درآمد شروع ہوا تھا۔
اس اعلان کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوترش نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق آئی این ایف معاہدہ بہت ہی اہم تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدے نے سردجنگ کے خاتمے اور یورپ میں ثبات و استحکام میں بہت مدد کی تھی۔انٹونیو گوترش نے کہا کہ آئی این ایف کے خاتمے سے دنیا میں ایٹمی جنگ روکنے کا ایک اہم عامل ختم ہوگیا۔
درمیانہ فاصلے تک مارکرنے والے ایٹمی میزائلوں کے بارے میں آئی این ایف معاہدے پر انیس سو ستاسی میں امریکا اور سوویت یونین نے دستخط کئے تھے۔اس معاہدے کے رو سے واشنگٹن اور ماسکو کو یورپ میں بلیسٹک اور کروز میزائل نصب کرنے کا حق نہیں تھا۔اس معاہدے میں طے پایا تھا کہ امریکا اور روس پانچ سو کلومیٹر سے ساڑھے پانچ ہزار کلو میٹر تک مارکرنے والے ایٹمی اور غیر ایٹمی میزائل تیار نہیں کریں گے۔ 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس