تاریخ شائع کریں۱ مرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۰۲
خبر کا کوڈ : 431036

معاشرہ رہبر کے وجود کے بغیر ممکن نہیں

مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ " آیت اللہ محسن اراکی " نے کہا
ہر مسئلہ اپنی ضروریات کے مطابق فقہی مسائل کا حل چاہتا ہے اور ثقافت و فرہنگ بھی انہی مسائل میں سے ایک ہے اور اس مسئلے کے حل کے یے رہبر کی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں
معاشرہ رہبر کے وجود کے بغیر ممکن نہیں
معاشرہ رہبر کے وجود کے بغیر ممکن نہیں

تقریب خبر رساں ایجنسیکے مطابق ، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے سربراہ " آیت اللہ محسن اراکی " نے " غنا و موسیقی " کی فقہی تعریف و بررسی کے حوالے سے قائم مرکز سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ہر معاشرے کو اس کی شکل اور ساخت کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسی بھی معاشرے کی صحیح شکل اس کی ثقافتی صورت سے ہی وجود میں آتی ہے اور اس ساختار کو بنانے میں اس معاشرے کے رہبر یا امام  کا بہت ہی اہم کردار ہوتا ہے۔
آیت اللہ اراکی نے مزید کہا کہ ہر مسئلہ اپنی ضروریات کے مطابق فقہی مسائل کا حل چاہتا ہے اور ثقافت و فرہنگ بھی انہی مسائل میں سے ایک ہے اور اس مسئلے کے حل کے یے رہبر کی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں ۔
بعض افراد کا کہنا ہے کہ حکومت اور ثقافت دو الگ الگ شعبے ہیں اور ان کو ایک دوسرے میں مداخلت نہیں کرنے چاہیے یعنی معاشرے کے رہبر کو ثقافتی معاملات میں بھی بلکل بھی دخل اندازی کا حق حاصل نہیں ہے۔ جبکہ یہ بہت ہی بڑی غلطی اور منفی سوچ کا نتیجہ ہے۔
کیوں کہ معاشرے کی ساختار اس کے رہبر کی زمہ داری ہے اور کوئی بھی معاشرہ بغیر رہبر کے وجود میں نہیں آسکتا ایسی طرح فرہگ و ثقافت بھی معاشری کی تشکیل کا بنیادی عنصر ہے تو ثقافتی امور بھی رہبر و حکومت کے ہاتھوں میں ہی ہونے چاہیے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس