تاریخ شائع کریں۳۰ تير ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۴۱
خبر کا کوڈ : 430660

ٹرمپ خلیج فارس کی کشیدگی کا ذمہ دار ہے

 جیرمی کوربن نے ایران کی سمندری حددو میں برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو روکے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا
حکومت برطانیہ نے دوسری بار اپنے ہنگامی اجلاس کے دوران ایران کی جانب سے برطانوی تیل بردار بحری جہاز روکے جانے کے معاملے کا جائزہ لیا
ٹرمپ خلیج فارس کی کشیدگی کا ذمہ دار ہے
حکومت برطانیہ نے دوسری بار اپنے ہنگامی اجلاس کے دوران ایران کی جانب سے برطانوی تیل بردار بحری جہاز روکے جانے کے معاملے کا جائزہ لیا۔ دوسری جانب حزب اختلاف کے رہنما جیرمی کوربن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خلیج فارس کی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
 جیرمی کوربن نے ایران کی سمندری حددو میں برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو روکے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس میں  پیدا ہونے والی کشیدگی کی ذمہ داری امریکی صدر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔
برطانوی حزب اختلاف کے رہنما نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کی بابت بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی نکتہ چینی کی۔
دوسری جانب حکومت برطانیہ نے چوبیس گھنٹے میں دوسری بار ہنگامی اجلاس طلب کر کے ایران کی جانب سے روکے گئے تیل بردار بحری جہاز کے معاملے کا جائزہ لیا۔
حکومت برطانیہ نے قبل ازیں ایران کے ساتھ کشیدگی میں کمی کا رجحان ظاہر کیا تھا لیکن وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے ہنگامی اجلاس کے بعد دعوی کیا کہ ایران نے برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو عمان کی سمندری حدود میں روکا ہے اور یہ اقدام بقول ان کے جہاز رانی کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی فورس نے جمعے کی شام جہاز رانی کے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ایک برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو اس وقت روک لیا تھا جب وہ آبنائے ہرمز سے گز رہا  تھا۔
 سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان سیکنڈ برگیڈیئر رمضان شریف نے کہا ہے کہ برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو انتباہات پر کان نہ دھرنے اور حتی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے بحری یونٹ کو مشن کی انجام دہی سے روکنے کی غرض سے برطانوی رائل نیوی کی بوٹوں کی مداخلت اور ہیلی کاپٹروں کی پروازوں کے باوجود، پوری قوت اور سرعت عمل کے ساتھ روکا گیا ہے۔
 برطانیہ سمیت امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے حالیہ مہینوں کے دوران ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے خلیج فارس میں اپنی فوجی نقل و حرکت  میں اضافہ کر دیا ہے۔
 ادھر امریکہ کی ملٹری انٹیلی جینس کے کمانڈر، جنرل رابرٹ ایشلے نے کہا ہے کہ آبنائے جبل الطارق میں برطانیہ کے ہاتھوں ایرانی بحری جہاز روکے جانے کے بعد خلیج فارس میں برطانوی جہاز کو روکا جانا غیر متوقع نہیں ہے۔
 برطانیہ کی رائل نیوی نے چار جولائی کو ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو آبنائے جبل الطارق میں روک لیا تھا۔ برطانیہ نے دعوی کیا تھا کہ مذکورہ تیل بردار بحری جہاز نے یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
درایں اثنا سوئیڈن  کے سابق وزیر اعظم نے شام کے خلاف یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کے بہانے آبنائے جبل الطارق میں ایرانی تیل بردار بحری جہاز روکے جانے کو ایک شیطنت قرار دیا ہے۔
 کارل بلٹ نے ایرانی تیل کی برآمد روکنے کی امریکی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے جبل الطارق میں ایران کے تیل بردار بحری جہاز کو تہران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی غرض سے روکا گیا ہے۔
 اگرچہ برطانیہ نے دعوی کیا ہے کہ  ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو شام پر عائد یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی کی بنا پر روکا گیا ہے لیکن حکومت اسپین نے ، جس کے جبل الطارق کی سمندری حدود پر برطانیہ سے اختلافات ہیں، اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ نے یہ اقدام امریکہ کے کہنے پر انجام دیا ہے۔  
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس