تاریخ شائع کریں۲۷ تير ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۳:۳۵
خبر کا کوڈ : 430212

منامہ کانفرنس کی شکست کے ذمہ دار فلسطینی ہیں

مغربی ایشیا میں نام نہاد قیام امن کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی نے اعتراف کیا ہے
منامہ کانفرنس کی شکست کے ذمہ دار فلسطینی ہیں جنھوں نے منامہ کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے ٹرمپ انتظامیہ  پر اسرائیل کی جانبداری کی حمایت کا الزام جاری رکھا
منامہ کانفرنس کی شکست کے ذمہ دار فلسطینی ہیں
مغربی ایشیا میں نام نہاد قیام امن کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی نے اعتراف کیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے سیاسی حل کےحصول کے بغیر منامہ میں پیش کئے گئے اقتصادی منصوبے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
فلسطینی اخبار الحدث نے خبردی ہے کہ مغربی ایشیا میں نام نہاد قیام امن کے بارے میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیسن گرینبلاٹ نے کہا کہ منامہ کانفرنس کی شکست کے ذمہ دار فلسطینی ہیں جنھوں نے منامہ کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے ٹرمپ انتظامیہ  پر اسرائیل کی جانبداری کی حمایت کا الزام جاری رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے مشیر اور داماد جیرڈ کوشنر نے منامہ کانفرنس کا اہتمام کرایا تھا امریکی انتظامیہ کی پیشہ ور ٹیم کے ساتھ پچاس ارب ڈالر مالیت کے اقتصادی پیکج کا پروگرام تیار کیا ہے لیکن جب تک مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے کوئی سیاسی منصوبہ نہیں ہوگا اس وقت تک کوشنرکا منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ امریکا کے شرمناک منصوبے سینچری ڈیل کو عملی جامہ پہنانے کے پہلے قدم کے طور پر گذشتہ پچیس اور چھبیس جون کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں اقتصادی کانفرنس ہوئی تھی جس کا فلسطینیوں اور دنیا کے بیشتر ملکوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔ سعودی عرب اور بعض دیگر عرب ریاستوں کے تعاون سے امریکا کے تیار کردہ سینچری ڈیل منصوبے میں فلسطینیوں کو ان کے سبھی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے اور بیت المقدس کو اسرائیل۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس