تاریخ شائع کریں۲۷ تير ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۰۴
خبر کا کوڈ : 430200

ڈیڑھ ارب سے زیادہ کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا بل پاس کردیا

امریکی ایوان نمائندگان نے ڈیڑھ ارب سے زیادہ کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا بل پاس کردیا ہے
امریکی فوجی اڈے میں ہونے والے بم دھماکے میں مرنے والے فوجیوں کے اہل خانہ کو ایران کے ایک ارب اڑسٹھ کروڑ ڈالر بطور تاوان فراہم کرے
ڈیڑھ ارب سے زیادہ کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا بل پاس کردیا
امریکی ایوان نمائندگان نے ڈیڑھ ارب سے زیادہ کے ایرانی اثاثے منجمد کرنے کا بل پاس کردیا ہے۔
بدھ کی شب امریکی ایوان نمائندگان نے ایک ایسا بل منظور کیا ہے جس میں حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایران کے ایک ارب اڑسٹھ کروڑ ڈالر کے اثاثے منجمد کرکے، انیس سو تراسی میں بیروت کے امریکی فوجی اڈے میں ہونے والے بم دھماکے میں مرنے والے فوجیوں کے اہل خانہ کو بطور تاوان فراہم کرے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں یہ بل اکتی س کے مقابلے میں تین سو ستانوے ووٹوں سے منظور کیا گیا۔اس بل میں کہا گیا ہے لکسمبرگ کے ایک بینک میں موجود ایران کے ایک ارب اڑسٹھ کروڑ ڈالر کے اثاثوں تک امریکہ کو دسترسی فراہم کی جائے گی۔
لکسمبرگ کی ایک عدالت پہلے ہی امریکی عدالتوں کی ان کوششوں کو عالمی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرچکی ہے کہ تاوان کی ادائیگی کے لیے ایران کے اثاثے تک امریکہ  کو دسترسی فراہم کی جائے۔
درایں اثنا امریکی کانگریس کے بعض ارکان نے عالمی قوانین کے برخلاف پرامن ایٹمی سرگرمیوں میں ایران اور دیگر ملکوں کے درمیان تعاون کی چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔کانگریس کے پچاس ارکان نے وائٹ ہاوس کے نام ایک خط میں مطالبہ کیا ہے کہ پرامن ایٹمی شعبے میں ایران کے ساتھ تعاون کی چھوٹ ختم کردی جائے
اس خط میں ایران کے خلاف وائٹ ہاؤس کی مخاصمانہ پالیسیوں کی حمایت کرتے ہوئے ایران کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو دیگر امریکی حکومتوں کے مقابلے میں انتہائی منفرد قرار دیا گیا ہے۔
امریکی کانگریس کے ارکان کے اس خط میں ٹرمپ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالسیاں جاری رکھتے ہوئے، جامع ایٹمی معاہدے کے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھونک دی جائے۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی دوہزار اٹھارہ میں ایران کے ساتھ ہونے والے جامع ایٹمی معاہدے سے  غیر قانونی طور پر علیحدگی اختیار کرلی تھی لیکن عالمی دباؤ کی وجہ سے اراک، بوشہر اور فرود کے منصوبوں میں پرامن ایٹمی تعاون پر عائد پابندیاں معطل کردی تھیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس