تاریخ شائع کریں۲۰ تير ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۲:۳۴
خبر کا کوڈ : 429123

امریکہ کا ایران کے خلاف فوجی اتحاد بنانے کیلیے ایک اور بہانہ

امریکا ایران اور یمن کے اطراف اپنے مفادات اور تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے عالمی فوجی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ عمان میں امریکا کو تیل سپلائی کرنے پر خلیج فارس کے علاقے کے ممالک سے آنے والے آئل ٹینکرز اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی اتحاد بنانے کا اعلان
امریکہ کا ایران کے خلاف فوجی اتحاد بنانے کیلیے ایک اور بہانہ
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بحیرہ عمان میں امریکا کو تیل سپلائی کرنے پر خلیج فارس کے علاقے کے ممالک سے آنے والے آئل ٹینکرز اور فوجی تنصیبات کے تحفظ کے لیے فوجی اتحاد بنانے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی  میڈیاکے مطابق امریکا ایران اور یمن کے اطراف سمندر میں اپنے مفادات اور تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے عالمی فوجی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس حوالے سے امریکی افواج نے کئی دوست ممالک سے بات چیت بھی کی ہے اور رائے عامہ بحال کرنے کی کوششوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔اس حوالے سے امریکی جنرل جوزف ڈنفرڈ کا کہنا تھا کہ امریکا خلیج فارس کے خطے میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں جس کے لیے عالمی فوجی اتحاد کا قیام ناگزیر ہو گیا ہے جس کے لیے خدوخال مرتب کر لیے ہیں اور دوست ممالک سے مشاورت جاری ہے۔
امریکی جنرل جوزف ڈنفرڈ نے مزید کہا کہ امریکا کمانڈ اینڈ کنٹرول کے عمل کے لیے بحری جہاز مہیا کرے گا جو امریکا کو تیل کی سپلائی پر مامور بحری جہازوں کے درمیان گشت کریں گے اور امریکی فوجی تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔
واضح رہے کہ مشرق وسطی میں امریکا کو تیل سپلائی کرنے پر مامور سعودی بحری جہازوں پرمشکوک حملوں کے بعد امریکا پہلے ہی بحیرہ عمان میں ایک طیارے بردار بحری بیڑا تعینات کرچکا ہے، اس کے علاوہ جنگی طیاروں کی دو کھیپ بھی قطر میں اپنے فوجی کیمپ میں منتقل کرچکا ہے لیکن علاقے کے بعض نا عاقبت اندیش ممالک کے سربراہوں نے اپنے ملکی مفادات کو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات پرقربان کرنے کے لئے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں اور وہ امریکی آلہ کار بن کر علاقے کو امریکی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس