تاریخ شائع کریں۲۰ تير ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱:۰۴
خبر کا کوڈ : 429090

طالبان کا جنگ کو جہاد قرار دینا آئین کی خلاف ورزی ہے

فضل ہادی مسلم یار نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا
افغانستان کی سینیٹ کے چیئرمین نے دوحہ مذاکرات کے بیان کو اپنے ملک کے بنیادی آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے
طالبان کا جنگ کو جہاد قرار دینا آئین کی خلاف ورزی ہے
افغانستان کی سینیٹ کے چیئرمین نے دوحہ مذاکرات کے بیان کو اپنے ملک کے بنیادی آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عوام اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے۔
فضل ہادی مسلم یار نے سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ بیان کی شقوں میں افغانستان میں ایک نظام اسلامی کے قیام اور طالبان کی جنگ کو جہاد قرار دیا جانا افغانستان کے بنیادی آئین کے خلاف ہے۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان سے سوویت یونین کے انخلا کے بعد افغان عوام کا جہاد ختم ہو چکا ہے اور اس کے بعد کے اٹھارہ برسوں میں طالبان کے دہشت گردانہ حملوں کو جہاد ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔
واضح رہے کہ قطر میں افغان گروہوں اور طالبان کی شمولیت سے اتوار اور پیر کو ایسی حالت میں مذاکرات ہوئے ہیں کہ ان مذاکرات میں حکومت کابل کا کوئی نمائندہ شامل نہیں رہا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس