تاریخ شائع کریں۳۰ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۲:۰۲
خبر کا کوڈ : 425965

ڈرون گرائے جانے کے بعد ٹرمپ کا ایران کے خلاف تند و تیز بیانات روکنے کا حکم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے
ڈیلی بیسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف تند و تیز بیانات سے گریز کریں
ڈرون گرائے جانے کے بعد ٹرمپ کا ایران کے خلاف تند و تیز بیانات روکنے کا حکم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف سخت اور جنگ پسندانہ بیان بازی سے گریز کریں۔ دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان نے ٹرمپ کے جنگی اختیار کو محدود کرنے کا بل پاس کردیا ہے۔
ڈیلی بیسٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف تند و تیز بیانات سے گریز کریں اور تہران سے جنگ کے بارے میں واشنگٹن کے فیصلوں کے حوالے سے کوئی بات زبان پر نہ لائیں۔
دو اعلی امریکی عہدیداروں اور تین دوسرے ذرائع نے بھی ڈیلی بیسٹ کو بتایا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلی امریکی حکام سے کہا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنا لب لہجہ نرم کر دیں۔امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے بھی جمعرات کے روز جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ فوجی کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے ۔اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پیلوسی نے خلیج فارس کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ پر زور دیا تھا کہ وہ صحیح اطلاع رسانی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں مدد کریں-  انہوں نے کہا کہ جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو میں اندازوں کی ممکنہ غلطیوں کے حوالے سے انتہائی تشویش میں مبتلا ہوں۔
امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ایرانیوں کو اشتعال نہیں دلانا چاہیے کیونکہ وہ جو کچھ کرتے ہیں پورے یقین کے ساتھ کرتے ہیں۔درایں اثنا امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان نے ایک بل کے ذریعے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات میں کمی کردی ہے۔ سینیٹ سے بھی منظوری ملنے کی صورت میں، اس بل کی رو سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ سے متعلق سن دوہزار ایک کے خصوصی صدارتی اختیارات استعمال کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔
کہا جارہا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان کو تشویش ہے کہ وزیر خارجہ مائیک پومپیو سمیت بعض امریکی عہدیداروں کی جعلی معلومات کی بنیاد پر وائٹ ہاؤس کا انتہا پسند ٹولہ گیارہ ستمبر کے حملے کے تناظر میں فوجی اقدامات سے متعلق سن دوہزار ایک میں منظور کیے جانے والے قانون سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ کو کسی نئی جنگ میں جھونک سکتا ہےادھر امریکی ایوان نمائندگان کے رکن ڈیوڈ سیسیلینی نے وزارت خارجہ کے ایران ایکشن گروپ کے سرغنہ برایان ہک کے ساتھ ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال کے دوران ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات نے امریکہ کو تنہا اور جنگ کی جانب دھکیل دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو ایران کے خلاف جنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔برایان ہک نے اس موقع پر ایران کے خلاف بے بنیاد دعوؤں کا اعادہ کرتے ہوئے  تہران کے مقابلے کے لیے خطے میں امریکی فوج کی تقویت کو ضروری قرار دیا۔
ایرانی حکام نے بارہا واضح کیا ہے کہ تہران کے خلاف کشیدگی اور جنگ کی ہر کوشش کا سخت اور منھ توڑ چواب دیا جائے گا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس