تاریخ شائع کریں۲۷ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۳۳
خبر کا کوڈ : 425425

واشنگٹن یقینی طور پر ایران کے ساتھ جنگ کا کوئی ارادہ نہیں

امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اور سینیٹ میں انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے ایٹمی معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا
واشنگٹن یقینی طور پر ایران کے ساتھ جنگ کا کوئی ارادہ نہیں
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی اور سینیٹ میں انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے ایٹمی معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کسی بھی صورت میں ایران سے جنگ کرنا نہیں چاہتا۔
امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن یقینی طور پر ایران کے ساتھ جنگ کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایسا کوئی بھی اشتعال انگیز اقدام انجام نہیں دینا چاہتا جس سے ممکن ہے کہ کوئی غط نتیجہ برآمد ہو۔ امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نے ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کے بارے میں ٹرمپ کے فیصلے کو ہر طرح کی منطق اور سفارتی دلائل سے عاری قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی قومی سلامتی سے متعلق بہت سے ماہرین نے ایٹمی معاہدے کی حمایت کی ہے- سینیٹ میں انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے بھی ایٹمی معاہدے سے واشنگٹن کی علیحدگی کے بارے میں کہا کہ اس معاہدے سے واشنگٹن کے نکلنے سے امریکا اور زیادہ مضبوط و مستحکم نہیں ہوا-
ایڈم شیف نے پیر کو امریکی نیوز چینل سی بی ایس سے گفتگو میں کہا کہ ہم جس چیز کا مشاہدہ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ امریکا کے اتحادی ایک ایک کر کے واشنگٹن سے دور ہوتے جا رہے ہیں اور دوسری جانب روس اور چین ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر ایران کی حمایت کر رہے ہیں-
امریکی سینیٹ میں انٹیلی جینس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شیف نے  کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس وقت بدترین صورتحال میں ہیں اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم پوری طرح ناکام ہو گئی جبکہ جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے-
ایڈم شیف نے بحیرہ عمان میں آئیل ٹینکروں کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات کی تکرار کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ہمارے انٹیلی جینس اداروں نے ہمارے سیاستدانوں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانیوں کا اس طرح کا ردعمل غالبا ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کا نتیجہ ہے-
انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان کے بارے میں کہ ایران کے ذریعے یورینیم کی افزودگی  کا عمل ایٹمی معاہدے کا نقص ہے،  کہا کہ جب ہم نے ایٹمی معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے تو پھر یہ  کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاہدے کا نقص ہے- ہم نے معاہدے کو ترک کر دیا ہے اور اب یہ شکایت کر رہے ہیں ایران ایٹمی معاہدے سے نکلنا چاہتا ہے-  
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس