تاریخ شائع کریں۲۷ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۴۲
خبر کا کوڈ : 425383

یمنی فورسز کا سعودی ابہا ہوائی اڈے پر ایک بار پھر ڈرون حملہ

منی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جنوب مغربی سعودی عرب کے ابہا ہوائی اڈے پر ایک بار پھر ڈرون حملہ کیا
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جنوب مغربی سعودی عرب کے ابہا ہوائی اڈے پر ایک بار پھر ڈرون حملہ کیا ہے ۔ اس خبر کا اعلان یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون یونٹ نے کیا
یمنی فورسز کا سعودی ابہا ہوائی اڈے پر ایک بار پھر ڈرون حملہ
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے جنوب مغربی سعودی عرب کے ابہا ہوائی اڈے پر ایک بار پھر ڈرون حملہ کیا ہے ۔ اس خبر کا اعلان یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے ڈرون یونٹ نے کیا۔
یمن کے المسیرہ ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے کئے جانے والے اس ڈرون حملے میں قاصف ٹو کے، نامی ڈرون طیارے استعمال کئے گئے۔گذشتہ پانچ روز کے دوران سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبے عسیر میں ابہا ایئرپورٹ پر کیا جانے والا یہ چوتھا ڈرون حملہ ہے۔دوسری جانب یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن عبدالوہاب المحبشی نے العالم نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمنی شہریوں کو جارح سعودی اتحاد کے حملوں سے محفوظ کرنے کے لئے جنوبی سعودی عرب کے ہوائی اڈوں کی فوجی سرگرمیوں کو بند کرایا جانا ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ یمن بین الاقوامی قوانین پر عمل کرتا ہے اور یمنی فوج نے سعودی شہریوں کی حفاظت کے لئے انھیں جنوبی سعودی عرب کے فوجی ہوائی اڈوں سے دور رہنے کے بارے میں پیغام بھی دیا ہے۔المحبشی نے کہا کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے ایسے آلات و ٹیکنالوجی کے مراکز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ جنھیں یمنی عوام کے خلاف فوجی جارحیت کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے جبکہ یمن کی جانب سے غیر فوجی مراکز پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔جنوبی سعودی عرب میں ہوائی اڈوں پر حملے بھی سعودی اتحاد کی جارحیت اور یمنی ہوائی اڈوں کا محاصرہ جاری رکھنے کے جواب میں کئے جا رہے ہیں - جارح سعودی اتحاد کے ذریعے یمن کے ہوائی اڈوں کا محاصرہ کرلئے جانے کے نتیجے میں سعودی اتحاد کے فوجی، ان ہوائی اڈوں سے علاج و معالجے کے لئے بیماروں تک کو بیرون ملک منتقل نہیں ہونے دے رہے ہیں۔دریں اثنا یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ مغربی یمن کے ساحل پر جاسوس طیارے کی نابودی و تباہی کے بارے میں امریکی فوج کا اعتراف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جارح سعودی اتحاد، امریکہ و اسرائیل کے منصوبوں اور اشاروں پر عمل کر رہا ہے۔انھوں نے یمنی عوام کے خلاف سعودی اتحاد کی جارحیت کے آغاز سے ہی اس جارحیت میں امریکہ کی مداخلت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام کی پامردی کی بدولت سعودی اتحاد کو ہونے والی شکست کے بعد امریکہ براہ راست طور پر اس جنگ میں شامل ہو گیا ہے۔یمن کے اینٹی ایرکرافٹ یونٹ نے چھے جون کو مغربی یمن کے ساحل پر ایم کیو نائن قسم کا ایک امریکی ڈرون طیارہ تباہ کر دیا تھا۔ادھر یمن کی اعلی انقلابی کمیٹی کے چیئرمین محمد علی الحوثی نے یمن کے بحران کےبارے میں سعودی ولی عہد کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیان یمن میں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کے بالکل برخلاف ہے اور قیام امن کی کوششوں کے سراسر منافی ہے۔محمد علی الحوثی نے کہا کہ سعودی اتحاد نے فوجی راہ حل کا انتخاب کیا ہے اور وہ بحران کے سلسلے میں سیاسی راہ حل کے خلاف ہے۔سعودی ولی عہد بن سلمان نے اتوار کے روز اپنے ایک انٹرویو میں یمنی عوام کے خلاف مختلف ملکوں کے اتحاد کی تشکیل کی طرف کوئی اشارہ کئے بغیر کہا ہے کہ وہ بقول سعودی ولی عہد، یمن کو الحوثیوں سے آزاد کرانا چاہتے ہیں۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کی سرزمین پر روز جوابی حملے کر رہی ہے جس کی رو سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے سعودی اتحاد کی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جا رہا ہے اور یمن کے تمام تر محاصرے کے باوجود یمنی فوج اور عومی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے یمنی عوام کے خلاف وحشیانہ جارحیت کا سلسلہ مارچ دو ہزار پندرہ سے جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں بے گناہ یمنی شہری شہید و زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں اور یمن کی بنیادی تنصیبات بالکل تباہ ہو چکی ہیں۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے سعودی اتحاد کی جارحیت پر جوابی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب جنگ کا دائرہ جنوبی سعودی عرب تک وسیع پیمانے پر پھیل چکا ہے جہاں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو مسلسل اپنے جوابی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ان حملوں میں سعودی اتحاد کے فوجیوں کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس