تاریخ شائع کریں۲۶ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۲:۳۱
خبر کا کوڈ : 425211

یورپی ممالک کی جانب سے کوئی خاص اقدام دیکھنے میں نہیں آیا

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نائب سربراہ سے ہونے والی ملاقات کے بعد کہا
ایران کے نائب وزیرخارجہ برائے سیاسی امور نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نائب سربراہ سے ہونے والی ملاقات کے بعد کہا
یورپی ممالک کی جانب سے کوئی خاص اقدام دیکھنے میں نہیں آیا
ایران کے نائب وزیرخارجہ برائے سیاسی امور نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نائب سربراہ سے ہونے والی ملاقات کے بعد کہا کہ یورپی ممالک کو جوہری معاہدے کے حوالے سے اپنی کوتاہیوں کے ازالے کیلئے دی جانے والی 60 روز کی مہلت میں اضافہ نہیں ہو گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیرخارجہ برائے سیاسی امور سید عباس عراقچی نے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی نائب سربراہ ہیلگا اشمید کے ساتھ کل ہونے والی ملاقات کے بعد واضح طور پر کہا کہ تہران صرف تکراری بیان دینے کیلئے جوہری معاہدے کی مشترکہ کمیشن کا اجلاس نہیں بلائے گا۔
سید عباس عراقچی نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئےکہ ایران نے ابھی تک یورپی ممالک کی جانب سے کوئی خاص اقدام کا مشاہدہ نہیں کیا ہے کہا کہ یورپی ممالک تیل، بینکنگ،حمل و نقل اور سرمایہ کاری کے ذریعے ایران کیلئے راستہ ڈھونڈ سکتے تھے لیکن ابھی تک ان شعبوں میں انہوں نے کمزوری دکھائی۔
ایران کے نائب وزیرخارجہ برائے سیاسی امور نے اس موقع پر کہا کہ 60 روز کی مہلت کے خاتمے کے بعد اگر جوہری معاہدے کے رکن ممالک نے ایران کے مطالبات پر عمل نہ کیا تو ایران دوسرے اقدامات کرے گا یا پھراسی دوسرے اقدام پر عمل در آمد کرے گا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس