تاریخ شائع کریں۲۵ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۴:۵۶
خبر کا کوڈ : 424969

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کا کلیدی کردار ہے

دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ایران کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے عراق اور شام میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ایران کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے دہشت گردی کو دنیا کے دیگر علاقوں میں پھیلنے سے روک دیا ہے
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایران کا کلیدی کردار ہے
صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے عراق اور شام میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ایران کے کردار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے دہشت گردی کو دنیا کے دیگر علاقوں میں پھیلنے سے روک دیا ہے۔
 تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں کانفرنس برائے باہمی روابط و اعتماد سازی سیکا کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ موجودہ حساس صورتحال میں ضروری ہے کہ اس تنظیم کے رکن ممالک دانشمندانہ پالیسیوں کے ذریعے  ملٹی لٹرل ازم  کو فروغ اور مونوپولر ازم کا مقابلہ کریں۔
 صدر ایران نے مزید کہا کہ تہران نے کئی بار ہمہ گیر امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے دوطرفہ، چند جانبہ اور کثرالفریقی میکینزم کے قیام کے لیے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔
ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ فلسطین کے دیرینہ مسئلہ کا حل نہ ہونا علاقے اور دنیا میں بدامنی اور تشدد کے فروغ کی اہم ترین وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ناجائز اقدامات اور امریکہ کی جانب سے اپنے سفارت خانے کی غیر قانونی طور پر بیت المقدس منتقلی اور شام کے علاقے جولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا جانا ایسے اقدامات ہیں جن کی وجہ سے اس بحران کے جامع اور منصفانہ راہ حل تک پہنچنے کا راستہ ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار ہو گیا ہے۔
 صدر ایران نے جامع ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی اور ایران کے خلاف یکطر پابندیاں دوبارہ عائد کیے جانے کا ذکر کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ تہران یکطرفہ پور پر ایٹمی معاہدے کی پابندی نہیں کر سکتا بلکہ دیگر ممالک کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اس معاہدے پر عمل کریں۔
 صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ون ون پالیسی پر یقین رکھتا ہے اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے تعاون اور ہم آہنگی کا فروغ ایرانی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔
 قابل ذکر ہے کہ  کانفرنس برائے باہمی روابط و اعتماد سازی سیکا کا سربراہی اجلاس ہفتے کی صبح تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے خطاب کرتے ہوئے غیر ملکی سربراہوں کو خوش آمدید کہا۔
سیکا کے قیام کی تجویز اکتوبر انیس سو بیانوے میں قزاقستان کے اس وقت کے صدر نور سلطان نے پیش کی تھی اور انیس سو چھیانوے میں اس کا با ضابطہ قیام عمل میں آیا تھا۔
سیکا کے قیام کا مقصد علاقائی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایشیائی ملکوں کے درمیان  دو طرفہ  تعلقات اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔
سیکا تنظیم بائیس ارکان پر مشتمل ہے جس میں ایران، قزاقستان، افغانستان، پاکستان، جنوبی کوریا، چین، روس، ہندوستان، فلسطین، منگولیا، کرغیزستان، ازبکستان، تاجکستان جہموریہ آذر بائیجان اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ، یورپی سلامتی اور سیکورٹی کی تنطیم، عرب لیگ اور بعض دوسرے ممالک کو سیکا میں مبصر کا درجہ حاصل ہے۔    
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس