تاریخ شائع کریں۲۳ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۵۳
خبر کا کوڈ : 424689

جاپانی وزیراعظم اور صدر روحانی کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا

جاپان کے وزیراعظم شنزوآبے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس
ایران کے جنوبی علاقوں میں سرمایہ کاری کے لئے جاپان کی دلچسبی، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کا باعث ہوگی
جاپانی وزیراعظم اور صدر روحانی کی مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ ایران کے جنوبی علاقوں میں سرمایہ کاری کے لئے جاپان کی دلچسبی، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کا باعث ہوگی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرحسن روحانی نےبدھ کی رات ایران کے دورے پر آئے ہوئے جاپان کے وزیراعظم شنزوآبے کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران، ایران اور جاپان کے تاریخی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سال دونوں ملکوں کے تعلقات کی 90ویں سالگرہ ہے۔
حسن روحانی نے ایران اور جاپان کے درمیان تاریخی تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے  کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، جاپان کیساتھ تمام شعبوں میں تعاون کے فروغ کے حوالے جاپانی حکومت کے مضبوط عزم و ارادے کا خیر مقدم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور جاپان کے کے درمیان وفود کی سطح پر اجلاس کے موقع پر باہمی تعلقات بشمول ایران کے جنوبی سواحل مکران اور چابہار میں جاپان کی سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور ہم جاپان کیجانب سے ایرانی تیل کی خریدای سمیت تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون اور باہمی مالی مسائل کے حل پر جاپان کی دلچسبی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
صدرمملکت نے کہا کہ جاپانی وزیر اعظم کیساتھ ملاقات میں باہمی مسائل سمیت خطے میں قیام امن اور کشیدگی کو ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات ہوئے۔
حسن روحانی نے کہا کہ ایران کبھی بھی کسی بھی ملک کے خلاف جنگ شروع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تاہم جارحیت کرنے والے کو دندان شکن جواب دیا جائیگا۔
ایران کے صدر نے کہا کہ خطے کے مسائل کے حوالے سے جاپانی وزیراعظم کا نقطہ نظر انتہائی مثبت اور تعمیری ہے اور جاپان کیجانب سے ایران جوہری معاہدے کی حمایت کا تسلسل اور خطے کیلئے اس بین الاقوامی معاہدے کی اہمیت کے حوالے سے جاپان کا تعمیری رویہ خوش آیند ہےاور ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کہ دونوں ممالک، خطے میں پائیدار امن و سلامتی کو قائم کرنے کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔
جاپان کے وزیر اعظم شنزوآبےنے اس مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پراپنے حالیہ دورہ ایران پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے حوالے سے ہر ممکن اقدام کریں گے۔
شنزوآبے نے کہا کہ ہمیں خطے میں بڑھتی ہوئے کشیدگی کو کسی بھی قیمت سے ختم کرنا ہے اور جاپان اس حوالے سے انتہائی تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔
جاپان کے وزیر اعظم نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اسلام امن و صلح کا دین ہے کہا کہ میں ہمیشہ اسلام کی معنویت اورر تعلیمات سے متاثر رہا ہوں اور میں ایران کے رہبر حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا بہت احترام کرتا ہوں جنہوں نے ایٹمی ہتیھاروں کے اسلام کے نقطہ نگاہ سے حرام ہونے کا فتوی دیا۔
جاپان کے وزیر اعظم شنیزآبےآج جمعرات کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ جاپان کے وزیراعظم شنزوآبے کل ایران کے 3 روزہ دورے پرتہران پہنچےتو تہران کے مہر آباد ایئر پورٹ پر وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر جاپان کے وزیر خارجہ تاروکونو بھی موجود تھے جو وزیراعظم شنزوآبے کے دورے کا انتظام مکمل کرنے کے لیے منگل کے روز تہران پہنچے تھے۔
مہر آباد ایئر پورٹ کے بعد تہران کے سعد آباد کمپلکس میں صدر ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے معزز مہمان کا سرکاری طور پر پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے اور صدر ایران اور جاپانی وزیراعظم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔صدر ایران نے اپنی کابینہ کے ارکان کا جاپانی وزیراعظم  سے تعارف کرایا جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے سے بالمشافہ ملاقات کی جو نوے منٹ تک جاری رہی۔
صدر حسن روحانی اور وزیراعظم آبے شنزو کے درمیان ہونے والے ملاقات میں باہمی تعلقات کے فروغ اور اہم ترین علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر تبادل خیال کیا گیا۔اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے جن میں تہران اور ٹوکیو کے درمیان اقتصادی، سیاسی، ثقافتی اور سائنسی معاملات پر تعاون کو آگے بڑھانے کا جائز لیا گیا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس