تاریخ شائع کریں۲۳ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۵:۲۳
خبر کا کوڈ : 424678

سوڈان انسانی حقوق کے بحران سے گزر رہا ہے

اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے
اقوام متحدہ کے ماہرین نے سوڈان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پْر امن مظاہرین پر تشدد کی تحقیقات کے لیے ہیومن رائٹس کونسل تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے
سوڈان انسانی حقوق کے بحران سے گزر رہا ہے
اقوام متحدہ کے ماہرین نے سوڈان میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پْر امن مظاہرین پر تشدد کی تحقیقات کے لیے ہیومن رائٹس کونسل تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے پانچ ماہرین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سوڈان انسانی حقوق کے بحران سے گزر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ ’آزاد تحقیقات‘ کے لیے اقوام متحدہ رائٹس کونسل تشکیل دیا جائے جو 24 جون کو اپنا پہلا سیشن شروع کرے۔
ماہرین اقوام متحدہ انسانی حقوق کے آزاد ماہرین ہیں تاہم ان کا مطالبہ اقوام متحدہ کے موقف کی ترجمانی نہیں کرتا ہے۔
فوج کی جانب سے اقتدار سول حکومت کو منتقل نہ کرنے پر سوڈان میں جاری احتجاج کے مظاہرین نے فوج سے مذاکرات کرنے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
ایتھوپیا کے وزیر اعظم آبی احمد کے دورے کے بعد مظاہرین اور فوج کے درمیان ثالثی مشن کے لیے نمائندہ خصوصی محمود دریر کا کہنا تھا کہ آزادی اور تبدیلی اتحاد نے سول نافرمانی مہم کے خاتمے کا پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اقتدار کو عوامی حکومت کے حوالے کرنے پر دونوں جانب سے مذاکرات جلد بحال کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا گیا ہے ۔ احتجاجی تحریک نے بھی عوام کو آئندہ روز سے معمولات زندگی بحال کرنے کی کال دے دی ہے ۔ دوسری جانب سوڈان کی فوجی کونسل نے بھی جھڑپ کے دوران حراست میں لیے گئے سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کردیا۔
خیال رہے کہ سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مسلح افواج اور احتجاجی مظاہرین کی جھڑپوں میں 100 سے زائد ہلاکتوں کے بعد احتجاجی گروپ سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن (ایس پی اے ) نے سول نافرمانی کا اعلان کیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ 11اپریل-2019 کو سوڈان کی فوج نے ملک میں جاری مظاہروں کے باعث 30 سال سے برسر اقتدار صدر عمر البشیر کو برطرف کرکے گرفتار کرلیا تھا اور اقتدار بھی سنبھال لیا تھا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس