تاریخ شائع کریں۲۰ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۲:۱۶
خبر کا کوڈ : 424030

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں

تہران کو عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی
جاپان کے وزير اعظم شینزوآبے اور جرمنی کے وزير خارجہ کے دورہ تہران کو عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ثالثی کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں
جاپان کے وزير اعظم شینزوآبے اور جرمنی کے وزير خارجہ کے دورہ تہران کو عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ثالثی کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق جاپان کے وزير اعظم شینزوآبے اور جرمنی کے وزير خارجہ کے دورہ تہران کو عالمی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور ثالثی کی سفارتی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔
کچھ مہینوں سے عالمی ذرائع ابلاغ میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی پر مبنی خبریں گردش کررہی ہیں اس سلسلے میں عراق، عمان، قطر اور سوئیزر لینڈ کے حکام کی کوششیں بھی کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں ، حتی سوئیزیر لینڈ کے وزير خارجہ نے امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپئوکے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں تہران اور وشنگٹن کے درمیان پیغام کے رد و بدل کا دعوی بھی کیا تھا۔
اب جاپان کے وزير اعظم کا دورہ تہران عالمی سطح توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جاپان کے وزیر اعظم شینزوآبے  کے دورہ تہران کو ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد کسی بھی جاپانی وزير اعظم کا ایران کا  یہ پہلا دورہ ہے۔
جاپان کے وزیر اعظم کے تہران اور واشنگٹن کے ساتھ گہرے دوستانہ تعلقات ہیں ، جاپان کے وزير اعظم شینزوآبے بدھ کے دن تہران کا دورہ کریں گے ۔ جاپانی وزير اعظم تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ جاپان کو دنیا کے تیسرے بڑے اقتصاد کے عنوان سےبھی جانا جاتا ہے جاپان کو انرجی درآمد کرنےکی سخت ضرورت ہے ۔ ٹوکیو اپنی انرجی کا 80 فیصد حصہ مشرق وسطی سے پورا کرتا ہے لہذا وہ بھی خطے میں جنگ اور کشیدگی کا خواہاں نہیں ہے ۔
ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز لفاظی سے عقب نشینی  کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ کا ایران پر دباؤ کم ہوگیا ہے بلکہ ایران کے خلاف امریکہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ ایک طرف رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لئے  ایران کے ساتھ حتی پیشگی شرائط کے بغیر  مذاکرات کی بات کررہا ہے اور دوسری طرف امریکہ کی ایران کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔  ادرھ جرمنی کے وزیر خارجہ بھی تہران پہنچ رہے ہیں ۔ جرمن اور جاپان کے سیاسی رہنماؤں کے دورے کے اختتام پر ہی ان کی ثالثی کی کوششوں کے بارے میں پتہ چلے گا ۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس