تاریخ شائع کریں۱۸ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۴:۱۰
خبر کا کوڈ : 423692

الفجیرہ حملے میں ایران کو ملوث کرنے کی کوشش ناکام کا شکار

ایران کے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہوگئی ہے
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی نیویارک میں امریکہ اور صہیونیوں کے تعاون سے الفجیرہ حملے میں ایران کو ملوث کرنے اور ایران کے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہوگئی ہے
الفجیرہ حملے میں ایران کو ملوث کرنے کی کوشش ناکام کا شکار
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی نیویارک میں امریکہ اور صہیونیوں کے تعاون سے الفجیرہ حملے میں ایران کو ملوث کرنے اور ایران کے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی  کے بین الاقوامی امور کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی نیویارک میں  امریکہ اور صہیونیوں کے تعاون سے الفجیرہ حملے میں ایران کو ملوث کرنے اور ایران کے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نیویارک میں امریکہ اور صہیونیوں کے تعاون سے  ایران کے خلاف وسیع پیمانے پرغلط ، بے بنیاد اور گمراہ کن پرپروپیگنڈہ شروع کرتے ہوئے الفجیرہ حملے میں ایران کو ملوث کرنے کی بھر پور کوشش کی اور ٹھوس شواہد کے بغیر ایران کو خطے میں خطرہ بنا کر پیش کرنے کی تلاش و کوشش کی ۔ سعودی عرب اور امارات نے سکیورٹی کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد منظور کرانے کی لئے ایک بے بنیاد اور جھوٹی رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ امارات کے ساحل کے قریب 12 مئی کو 4 بحری تجارتی کشتیوں پر حملے میں ایران ملوث ہے۔ رپورٹ کے مطابق چاروں تجارتی کشتیاں امارات کی سمندری حدود میں موجود تھیں، جن پر امریکہ کے لئے تیل لے جایا جارہا تھا۔  ادھر ایران کے وزير خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں واضح کیا کہ سعودی عرب اور امارات کی بےبنیاد رپورٹ کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ ہے کیونکہ موساد اس سے قبل امریکہ کو اس بات پر قائل کرچکی تھی کہ الفجیرہ حملے کی ذمہ د اری ایران عائد کی جائےجبکہ ایران نے الفجیرہ حملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جس پر کسی نے توجہ نہیں کی اور اس حملے میں سعودی عرب اور امارات نے بغیر تحقیق کے ابتداء ہی سے ایران کو ملوث کرنے کی سازش کا آغاز کردیا اور اس سلسلے میں وہ ایران کے خلاف قرارداد منظور کرانے کے لئے نیویارک میں اقوام متحدہ کے پاس بھی پہنچ گئے۔ جبکہ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور امارت نے الفجیرہ حملے کا منصوبہ خود ہی بنایا تاکہ وہ اس طریقہ سے امریکہ کو ایران پرفوجی کارروائی کے لئے آمادہ کرسکیں ادھر امریکی صدر اور وزیر خارجہ کے ایران کے خلاف  داغ بیانات کی وجہ سے بھی سعودی عرب اور امارات کے حکام بڑے خوشحال تھے لیکن ایرانی قوم کی استقامت اور ایرانی حکام کی درایت اور حکمت عملی کی بنا پر سعودی عرب اور امارات کی ایران کے خلاف الفجیرہ سازش بھی ناکام ہوگئی اور نیویارک میں بھی ان کے ہاتھ خالی ہی رہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس