تاریخ شائع کریں۱۳ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۳:۲۱
خبر کا کوڈ : 423240

صدر ٹرمپ کی لندن آمد پر عوام کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہرے

برطانیہ کی وزیراعظم تھر یسا مے نے امید ظاہر کی ہے
برطانیہ کی وزیراعظم تھر یسا مے نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے
صدر ٹرمپ کی لندن آمد پر عوام کی جانب سے شدید احتجاجی مظاہرے
برطانیہ کی وزیراعظم تھر یسا مے نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دورے سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے۔
 امریکی صدر ٹرمپ آج پیر سے برطانیہ کا تین روزہ دورہ شروع کرنے والے ہیں۔ ان کے دورے کے دوران دی جانے والی احتجاج کی کال کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ ٹرمپ اس دورے میں ملکہ الزبتھ دوم سے ملاقات کریں گے اور مستعفی ہونے والی وزیراعظم تھر یسا مے کے ساتھ دو طرفہ امور پر تبادلہ کریں گے۔
لندن کی مختلف تنظیموں، سول سوسائٹی اور جنگ مخالف گروہوں نے برطانیہ کے سبھی شہروں میں سرگرم تنظیموں اور گروہوں سے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کے موقع پر اس دورے کے خلاف مظاہرے کریں۔
برطانیہ کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے بھی ٹرمپ کے دورہ برطانیہ کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے ایسے شخص کا استقبال نہیں کرنا چاہئے جو بین الاقوامی معاہدوں کو پھاڑ کر پھینک دیتا ہے اور نسل پرستانہ و فساد پھیلانے والی زبان استعمال کرتا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس