تاریخ شائع کریں۱ خرداد ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۲:۳۹
خبر کا کوڈ : 421423

ایران گذشتہ چار دہائیوں سے پابندیوں اور دھمکیوں کا سامنا کر رہا ہے

ایران کے سفیرمہدی ہنردوست نے کہا ہے
ایران کے سفیرمہدی ہنردوست نے کہا ہے کہ رہبرانقلاب اسلامی کے فرمان کے مطابق امریکہ کیساتھ مذاکرات زہر سے کم نہیں ہیں
ایران گذشتہ چار دہائیوں سے پابندیوں اور دھمکیوں کا سامنا کر رہا ہے
ایران کے سفیرمہدی ہنردوست نے کہا ہے کہ رہبرانقلاب اسلامی کے فرمان کے مطابق امریکہ کیساتھ مذاکرات زہر سے کم نہیں ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں سفارتخانے میں افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے سفارتخانے میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے ایک مرتبہ پھر ایران کے خلاف طبلِ جنگ بجایا جا رہا ہے۔ مہدی ہنردوست نے کہا کہ ہمارے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں، ہم گذشتہ چار دہائیوں سے پابندیوں اور دھمکیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم نے امریکا اور یورپی ممالک کے ساتھ مذاکرات کا تجربہ بھی کرکے دیکھ لیا۔
ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ہی ایٹمی معاہدہ طے پایا، جسے امریکہ نے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا۔
رہبرانقلاب اسلامی کے فرمان کے مطابق امریکہ کیساتھ مذاکرات زہر سے کم نہیں ہیں۔
ایران کے سفیرکا کہنا تھا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے تاہم اگر جارحیت کی گئی تو بھرپورجواب دینگے انہوں نے واضح کیا کہ ایران علاقائی امن و سلامتی کا خواہاں ہے مگر اپنا دفاع کرنا جانتا ہے امریکہ اور اسکے اتحادیوں نے پہلے ہی خطے میں کئی جنگوں کے نتیجہ میں تباہی پھیلائی ہے۔
انہوں نے واضح طور پر کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پابندیاں، دھمکیاں اور تشدد ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس