تاریخ شائع کریں۲۹ ارديبهشت ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۰:۲۶
خبر کا کوڈ : 420912

لحدیدہ کے علاقے میں سعودی جنگی طیاروں کی سنگین گولہ باری

لحدیدہ کے علاقے الفارہ اور جنوبی شہر تحیتا پر سنگین گولہ باری کی ہے
یمن میں جارح سعودی اتحاد نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی صوبے الحدیدہ کو بڑے پیمانے پر جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔
لحدیدہ کے علاقے میں سعودی جنگی طیاروں کی سنگین گولہ باری
یمن میں جارح سعودی اتحاد نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی صوبے الحدیدہ کو بڑے پیمانے پر جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔
المسیرہ ٹیلی ویژن کے مطابق جارح سعودی اتحاد نے صوبے الحدیدہ کے علاقے الفارہ اور جنوبی شہر تحیتا پر سنگین گولہ باری کی ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد نے الحدیدہ سٹی کے علاقوں محل الشیخ اور زعفران کو بھی ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے اپنی جارحیت کا نشانہ بنایا ہے جبکہ جنوبی شہر الدریھمی پر متعدد بار گولہ باری کی ہے۔ان حملوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کے بارے میں فوری طور پر کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔یمن پر جارح سعودی اتحاد کے یہ حملے ایک ایسے وقت جاری ہیں جب سوئیڈن میں گذشتہ دسمبر میں فائربندی کے لئے ہوئے سمجھوتے کے بعد اٹھارہ دسمبر سے جنگ بندی نافذ ہے لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے ایک دن بھی فائربندی کی پابندی نہیں کی۔یمن کی الحدیدہ بندرگاہ مظلوم یمنی عوام کے لئے انسان دوستانہ امداد کی ترسیل کا واحد راستہ ہے ۔الحدیدہ پر مسلسل حملوں کا ایک مقصد نہتے اور مظلوم یمنی عوام تک انسان دوستانہ امداد پہنچنے میں رکاوٹ ڈالنا ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ یمن کی وزارت صحت نے ایک بیان جاری کرکے ایک بار پھر ملک میں انسانی المیہ رونما ہونے کی جانب سے خبردار کیا ہے۔یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے بانوے سے پچانوے فیصد تک اسپتالوں اور طبی مراکز میں علاج معالجے کے ضروری وسائل نہیں ہیں۔یمن کے وزیر صحت طاھا احمد المتوکل نے بھی جمعے کی رات اعلان کیا ہے کہ جارح سعودی اتحاد کے حملوں کی وجہ سے پچاس فیصد سے زائد اسپتالوں میں علاج معالجے کی سرگرمیاں مکمل طور پر رک گئی ہیں اور بین الاقوامی ادارے یمن کے لئے دوائیں اور علاج معالجے کے ضروری وسائل ارسال کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔دوسری جانب یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں سعودی عرب کے جنوبی صوبے عسیر کے علاقے الربوعہ میں سعودی اتحاد کے فوجیوں کو مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے زلزال میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔اس حملے میں سعودی اتحاد کے درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بعض دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دوہزار پندرہ میں یمن کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں عام شہری شہید اور زخمی ہوئے جبکہ یمن کی بنیادی تنصیبات کو تباہ کردیا گیا ہے لیکن یمنی عوام کی استقامت کے نتیجے یمں سعودی اتحاد کو اپنے مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس