تاریخ شائع کریں۲۹ ارديبهشت ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۱:۲۷
خبر کا کوڈ : 420832

کراچی کے سمندر سے تیل کی تلاش ناکامی کا شکار

کراچی کے قریب گہرے سمندر سے تیل اور گیس کے ذخائر کا کوئی نمونہ نہ مل سکا
کراچی کے قریب گہرے سمندر سے تیل اور گیس کے ذخائر کا کوئی نمونہ نہ مل سکا جب کہ ڈرلنگ پر ساڑھے 14 ارب روپے کے اخراجات آئے
کراچی کے سمندر سے تیل کی تلاش ناکامی کا شکار
کراچی کے قریب گہرے سمندر سے تیل اور گیس کے ذخائر کا کوئی نمونہ نہ مل سکا جب کہ ڈرلنگ پر ساڑھے 14 ارب روپے کے اخراجات آئے۔
پاکستانی وزارت پیٹرولیم کے مطابق امریکن کمپنی کی جانب سے کراچی کے ساحل سے 280 کلومیٹر دور گہرے سمندر میں انڈس جی کے کیکڑا ون نامی بلاک میں 5 ہزار 500 میٹر سے زائد گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی، اور اس عمل میں ساڑھے 14 ارب روپے کے اخراجات آئے لیکن ٹیسٹنگ کے عمل کے دوران تیل اور گیس کے ذخائر کا کوئی نمونہ نہ مل سکا، اب ڈرلنگ کا کام ترک کردیا گیا اور ٹیسٹنگ کے نتائج سے ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز کے آفس کو آگاہ کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے انڈس جی بلاک کے ڈرلنگ پروجیکٹ میں 4 مختلف ایکسپلوریشن کمپنیاں جن میں اوجی ڈی سی ایل، پی پی ایل، ایگزون موبل اوراٹلی کی کمپنی ای این آئی کی25 فیصد کے تناسب سے یکساں حصہ داری ہیں اور مذکورہ منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 10کروڑ ڈالر لگایا گیا تھا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس