تاریخ شائع کریں۲۵ ارديبهشت ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۸:۲۰
خبر کا کوڈ : 420324

جمال خاشقجی سعودی حکومت کیلیے خطرناک تھا

جمال خاشقجی کے اہلخانہ نے سعودی ولیعہد کے الزامات کو رد کردیا ہے
بن سلمان نے امریکی صدرکے داماد جیرڈ کوشنر اور سکیورٹی مشیرجان بولٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں سعودی عرب کے مقتول صحافی جمال خاشقجی کو خطرناک قرار دیا
جمال خاشقجی سعودی حکومت کیلیے خطرناک تھا
سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدرکے داماد جیرڈ کوشنر اور سکیورٹی مشیرجان بولٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں سعودی عرب کے مقتول صحافی جمال خاشقجی کو خطرناک قرار دیا ہے جبکہ جمال خاشقجی کے اہلخانہ نے سعودی ولیعہد کے الزامات کو رد کردیا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی نے واشنگٹن پوسٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدرکے داماد جیرڈ کوشنر اور سکیورٹی مشیرجان بولٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں سعودی عرب کے مقتول صحافی جمال خاشقجی کو خطرناک قرار دیا ہے جبکہ جمال خاشقجی کے اہلخانہ نے سعودی ولیعہد کے الزامات کو رد کردیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ سعودی ولی عہد کی جیرڈکوشنر اور جان بولٹن کو تازہ ترین ٹیلی فون کال 9اکتوبر کوکی گئی۔
اخبار کے مطابق سعودی ولی عہد نےجیرڈکوشنر اورجان بولٹن کو خاشقجی کی ہلاکت تسلیم کئےجانےسےقبل ٹیلی فون کیا اور خاشقجی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس پر سعودی عرب تعلقات برقراررکھنےپر بھی زوردیا۔
جمال خاشقجی کےاہل خانہ نے امریکی اخبار کوجاری کیے جانے والے بیان میں سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمال خاشقجی کا کسی شدّت پسند گروپ سےتعلق نہیں تھا اور نہ وہ خطرناک شخص تھے۔  واضح رہے کہ سعودی  صحافی کو ترکی کے شہر استنبول میں سعودی عرب کے قونصلخانہ میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے حکم پر بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے پہلے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے خاشقجی کے قتل میں ملوث ہونے کی تردید کی لیکن بعد میں اعتراف کرلیا کہ خاشقجی کو سعودی ولیعہد کے قریبی سکیورٹی اہلکاروں نے قتل کیا تھا۔ سعودی عرب نے خاشقجی کی لاش کو بھی اس کے اہلخانہ کے حوالے نہیں کیا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس