تاریخ شائع کریں۲۵ ارديبهشت ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۳۱
خبر کا کوڈ : 420312

سری لنکا میں فیس بک پوسٹ سے شروع ہونے والے فسادات میں شدت

سری لنکا میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور فسادات کے دوران پرتشدد کارروائیاں
سری لنکا میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور فسادات کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں ایک مسلمان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے جب کہ متعدد زخمی ہوئے ہیں
سری لنکا میں فیس بک پوسٹ سے شروع ہونے والے فسادات میں شدت
سری لنکا میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور فسادات کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں ایک مسلمان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے جب کہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مسلمان دکاندار کی ایک فیس بک پوسٹ سے شروع ہونے والے فسادات میں ایک مسلمان کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی گئی ہے جب کہ متعدد زخمی ہیں، سیکڑوں مسلمانوں نے تھانوں میں پناہ لے رکھی ہے, مساجد، مسلمانوں کی املاک و کاروبار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔
پولیس نے 45 سالہ مسلمان دکاندار کو چھریوں کے وار کر کے قتل کرنے کے الزام میں 2 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں سنہائی بدھ مت کمیونیٹی کے پرچاری امیت ویراسنگھے اور کرپشن کیخلاف جدوجہد کرنے والے خود ساختہ لیڈر نمل کمارا شامل ہیں جب کہ 13 دیگر افراد کو بلوے اور ہنگامہ آرائی پر حراست میں لیا گیا ہے۔
سری لنکا کی حکومت کے مسلمان وزیر رؤف حکیم نے مسلمان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مشتعل افراد نے ایک مسلمان شخص کو شمال مغربی علاقے میں بہیمانہ تشدد کر کے ہلاک کیا۔
گزشتہ روز شروع ہونے والے فسادات کے بعد حکومت نے شمال مغربی علاقے کے کئی اضلاع میں کرفیو نافذ کردیا تھا جب کہ ان علاقوں میں افواہوں کی روک تھام کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
واضح رہے کہ ایسٹر کے موقع پر چرچوں اور ہوٹلوں پر خود کش حملوں میں 250 افراد کی ہلاکت کے بعد مسلمان آبادیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس