تاریخ شائع کریں۲۴ ارديبهشت ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۹:۰۳
خبر کا کوڈ : 420110

سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کی صعدہ پر شدید بمباری

شمالی یمن پر سعودی اتحاد کی تازہ وحشیانہ جارحیت میں کم از کم چار یمنی شہری شہید ہو گئے
شمالی یمن پر سعودی اتحاد کی تازہ وحشیانہ جارحیت میں کم از کم چار یمنی شہری شہید ہو گئے
سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کی صعدہ پر شدید بمباری
شمالی یمن پر سعودی اتحاد کی تازہ وحشیانہ جارحیت میں کم از کم چار یمنی شہری شہید ہو گئے۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق پیر کے روز شمالی یمن کے سرحدی صوبے صعدہ میں ایک گاڑی پر سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں کے حملے میں کم از کم چار افراد شہید اور ایک شخص زخمی ہو گیا۔
سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے اتوار کے روز بھی سحار کے علاقے بنی معاذ میں ایک مکان پر بمباری کی تھی جس میں ایک شخص زخمی ہو گیا تھا۔
سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے بھی جنوبی سعودی عرب کے علاقے نجران میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر میزائل حملہ کیا جس میں سعودی اتحاد کے کئی فوجی ہلاک ہو گئے۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اپنے سات ڈرون طیاروں سے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔ ان کا یہ اقدام بھی سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب مین انجام پایا۔
دوسری جانب یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ جارح سعودی اتحاد اسٹاک ہوم امن سمجھوتے پر عمل میں رخنہ اندازی کر رہا ہے۔
المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے، جو یمن کے مذاکرات کار وفد کے سربراہ بھی رہے ہیں، کہا ہے کہ الحدیدہ میں سعودی اتحاد کی جانب سے فوجی کشیدگی میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی اتحاد، قیام امن کے بجائے امن کے عمل کی مخالفت اور جارحیت جاری رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
یمن کی انصاراللہ تحریک نے ہفتے کے روز صوبے الحدیدہ کی بندرگاہوں یعنی الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسی سے اسٹاک ہوم سمجھوتے کے دائرے میں فوجی انخلا شروع کیا ہے۔
یمن کی مستعفی حکومت اور یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے درمیان تیرہ دسمبر دو ہزار اٹھارہ کو سوئیڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں مذاکرات ہوئے تھے جس میں ساحلی صوبے الحدیدہ اور تعز میں قیدیوں کے تبادلے کے بارے میں بھی اتفاق رائے ہوا تھا مگر سعودی اتحاد کی جانب سے اس معاہدے کی خلاف ورزی جاری رہی ہے اور اب تک کوئی تنیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے شروع کئے ہیں جن میں دسیوں ہزار بےگناہ شہری مارے گئے ہیں۔ چار سال سے زائد کا عرصہ گذرجانے کے بعد بھی سعودی عرب اپنی وحشیانہ جارحیتوں کا کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس