تاریخ شائع کریں۲۳ ارديبهشت ۱۳۹۸ گھنٹہ ۲۱:۳۳
خبر کا کوڈ : 419925

جواد ظریف کا جان بولٹن کے بیان پر شدید ردعمل

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئیٹ میں امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ جان بولٹن ایران کیخلاف ٹیم بی کی منصوبہ بندیوں میں کافی عرصے سے مشغول ہے
جواد ظریف کا جان بولٹن کے بیان پر شدید ردعمل
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئیٹ میں امریکی صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ جان بولٹن ایران کیخلاف ٹیم بی کی منصوبہ بندیوں میں کافی عرصے سے مشغول ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے  اتوار کے روزاپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں جوہری معاہدے سے متعلق امریکی علیحدگی کے حوالے سے امریکی قومی سلامتی کے مشیرجان بولٹن کے منصوبے کو اٹیچ کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مسٹر ٹرمپ! بولٹن نے آپ کی انتظامیہ میں شامل ہونے سے قبل ٹیم بی کیساتھ ایران کیخلاف اسی منصوبے کو پیش کیا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ  نے اپنے ٹوئیٹ میں ایران کیخلاف ٹیم بی کی منصوبہ بندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے متعلق بولٹن کے منصوبے من گھرٹ معلومات،مستقل جنگ اور حتی کہ مذاکرات کی کھوکھلی پیشکش پر مبنی تھے اور واحد فرق یہ تھا کہ اس میں ٹیلی فون نمبر موجود نہیں تھا۔
واضح رہے کہ جان بولٹن نے امریکہ میں قومی مشیر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل بارہا ایران کیخلاف فوجی کارروائی اور ایرانی آئین اور نظام حکومت میں تبدیلی لانے پر زور دیا تھا اور ساتھ ساتھ ایران جوہری معاہدے سے متعلق کیے گئے مذاکرات کی شدید مخالفت کی تھی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر نےگزشتہ ہفتے کے دوران ایران کیساتھ مذاکرات کرنے پر دلچسبی کا اظہار کیا تھا۔اس کے علاوہ امریکی نیوز چینل سی این این نے کہا ہے کہ امریکی وائٹ ہاوس نے ایران میں تعینات سوئٹزرلینڈ (ایران اور امریکہ کے مفادات کے تحفظ کا ذمہ دار) کے سفارتخانے کو ایران کیساتھ مذاکرت کیلئے ایک ٹیلی فون نمبر دے دیا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس