تاریخ شائع کریں۳ ارديبهشت ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۳:۰۸
خبر کا کوڈ : 416426

امریکی حمایت یافتہ خلیفہ حفتر کی فوج کا لیبیا میں قتل عام

دارالحکومت طرابلس میں جاری لڑائی میں اب تک دو سو چوّن افراد ہلاک
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے خلیفہ حفتر کی حمایت کے اعلان کے بعد عالمی ادارہ صحت نے اپنی تازہ رپورٹ میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر خلیفہ حفتر کی فوج کے حملوں میں ہلاک
امریکی حمایت یافتہ خلیفہ حفتر کی فوج کا لیبیا میں قتل عام
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے خلیفہ حفتر کی حمایت کے اعلان کے بعد عالمی ادارہ صحت نے اپنی تازہ رپورٹ میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر خلیفہ حفتر کی فوج کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں جاری لڑائی میں اب تک دو سو چوّن افراد ہلاک اور بارہ سو سے زائد دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔
اس سے قبل عالمی ادارہ صحت نے طرابلس کی جھڑپوں کے نتیجے میں انیس ہزار افراد کے بے گھرہونے کی خبر دی تھی۔
اقوام متحدہ نے لیبیا میں متحارب فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اسپتالوں، امداد پہنچانے والی گاڑیوں اور طبی عملے کے افراد کو حملوں کا نشانہ بنانے سے گریز کریں۔
خلیفہ حفتر کی زیرکمان فوج نے کہ مشرقی لیبیا پر جس کا قبضہ بھی ہے، طرابلس میں تعینات لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت کی فوج کے مقابلے میں جھڑپوں کا سلسلہ بند کرنے کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔
لیبیا کی قومی وفاق کی حکومت کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے اس کے باوجود امریکہ، خلیفہ حفتر نامی مخالف کمانڈر کے زیر کمان فوج کی باضابطہ طور پر حمایت کر رہا ہے۔
امریکہ کے ایک سینیئر سفارتکار جیفری فلٹمین نے خلیفہ حفتر کے لئے امریکی صدر ٹرمپ کی حمایت کو لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر بمباری کے آغاز سے تعبیر کیا ہے۔
فلٹمین نے کہا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے کہ خلیفہ حفتر کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کے ٹیلیفونی رابطے کے بعد ہی طرابلس پر بلاسبب بمباری کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر حملے کے لئے خلیفہ حفتر کی ترغیب میں سعودی عرب کی حمایت کا بھی براہ راست کردار رہا ہے اس لئے کہ ریاض میں ہونے والی نشستیں اس بات کا باعث بنی ہیں کہ طرابلس پر حملے سے قبل خلیفہ حفتر کے خزانے بھر دیئے جائیں۔
وائٹ ہاؤس نے جمعے کے روز ایک بیان میں جنرل خلیفہ حفتر کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کے براہ راست ٹیلیفونی رابطے کی خبر دی تھی۔
اس بیان میں وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ ٹیلیفون پر ہونے والی اس گفتگو میں خلیفہ حفتر اور ٹرمپ نے لیبیا کے حالات اور اس ملک کی صورت حال کے بارے میں ہم آہنگی کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔
امریکی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں لیبیا میں ہونے والی جھڑپوں میں خلیفہ حفتر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی نظر میں خلیفہ حفتر لیبیا کے تیل کے ذخائر کے دفاع اور دہشت گردی کے خلاف مہم میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس