تاریخ شائع کریں۲۹ فروردين ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۶:۴۵
خبر کا کوڈ : 415621

یمنی فوج کی جانب سے سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کا جواب

فوجی ذریعے نے المسیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے
منی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے شمال مغربی یمن کے صوبے حجہ میں حیران کے علاقے میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر میزائل حملہ کر کے خاصا نقصان پہنچایا
یمنی فوج کی جانب سے سعودی عرب کے وحشیانہ حملوں کا جواب
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے شمال مغربی یمن کے صوبے حجہ میں حیران کے علاقے میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر میزائل حملہ کر کے خاصا نقصان پہنچایا۔
ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یمن کے ایک فوجی ذریعے نے المسیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے شمال مغربی یمن کے صوبے حجہ میں حیران کے علاقے میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں پر میزائل حملہ کیا اور یہ میزائل زلزال ایک قسم کا تھا جو ٹھیک اپنے نشانے پر جا کر لگا۔
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے اس جوابی حملے میں سعودی اتحاد کے کئی فوجی ہلاک و زخمی ہو گئے۔
یمن کی مسلح افواج کے نائب سربراہ میجر جنرل علی الموشکی نے حال ہی میں کہا تھا کہ یمن کی مسلح افواج نے عہد کیا ہے کہ یمن سے کسی بھی جارح فوجی کو زندہ واپس نہیں جانے دیا جائے گا۔
دوسری جانب یمن کی مسلح افواج نے یمنی ساخت کے بدر ایف نامی اپنے ایک اور نیز جدید قسم کے میزائل کی رونمائی کی ہے۔
یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بدر ایف نامی میزائل سے ایک ساتھ کئی اہداف حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
یمنی فوج نے اس سے قبل نومبر دو ہزار اٹھارہ میں بدر ون پی قسم کے میزائل کی بھی رونمائی کی تھی۔
یمن کے تمام تر محاصرے کے باوجود اس ملک کی مسلح افواج کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور یمن کی جنگ کا دائرہ بھی یمن سے جنوبی سعودی عرب تک وسیع ہو چکا ہے۔
دریں اثنا یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفیتھس غیر جانبداری کے اصول پر کاربند نہیں ہیں۔
اس ترجمان نے کہا کہ گریفیتھس، اقوام متحدہ کے پیلٹ فارم سے برطانیہ کے مواقف بیان کئے جانے میں استفادہ کر رہے ہیں جبکہ امریکہ کے ساتھ ساتھ برطانیہ بھی یمنی عوام کے خلاف مسلط کی جانے والی جنگ کو طویل بنائے جانے کا ذمہ دار ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
سعودی اتحاد کی جاری وحشیانہ جارحیت اور محاصرے کے نتیجے میں عالم اسلام کے اس غریب عرب ملک کو غذائی اشیا اور دواؤں کی شدید قلّت کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود سعودی اتحاد یمنی عوام کے خلاف اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس