تاریخ شائع کریں۲۶ فروردين ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۵۳
خبر کا کوڈ : 414988

امریکہ میں تعینات فرانسیسی سفیر پنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے

امریکہ میں تعینات فرانسیسی سفیرجیرارڈ آراود نے کہا
امریکہ میں تعینات فرانسیسی سفیر جنہوں نے ٹوئٹر پر ایران جوہری معاہدے کے مستقبل پر متنازع بیان دیا تھا اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے ٹوئٹ کو مٹانے پر مجبور ہوگئے.
امریکہ میں تعینات فرانسیسی سفیر پنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے
امریکہ میں تعینات فرانسیسی سفیر جنہوں نے ٹوئٹر پر ایران جوہری معاہدے کے مستقبل پر متنازع بیان دیا تھا اپنے اس مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے اپنے ٹوئٹ کو مٹانے پر مجبور ہوگئے.
امریکہ میں تعینات فرانسیسی سفیر جیرارڈ آراود نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں ایران جوہری معاہدے کے مستقبل پر متنازع بیان دیا تھا جس پر تہران نے پیرس حکومت سے احتجاج کیا تھا.اس صورتحال کے بعد فرانس کے سفیر نے اپنے مؤقف سے پیھچے ہٹتے ہوئے متنازع ٹوئٹ کو بھی مٹا دیا.
عالمی جوہری ادارہ بارہا ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کرچکا ہے تاہم امریکہ میں فرانسیسی سفیر نے حال ہی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ جوہری معاہدے کے بعد ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی کا کوئی جواز نہیں بنتا.اس بیان کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کے معاون خصوصی سید عباس عراقچی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فرانسیسی سفیر کی حالیہ باتیں پیرس حکومت کے مؤقف کو ظاہر کرتی ہیں تو یہ جوہری معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کا ایران موثر انداز میں ردعمل دے گا.اس کے علاوہ تہران میں حال ہی میں تعینات ہونے والے فرانسیسی سفیر کو بھی دفترخارجہ طلب کیا گیا جس میں فرانسیسی سفیر نے کہا انھیں امریکہ میں تعینات فرانسیسی سفیر کے ٹوئٹ کے حوالے سے کوئی اطلاع نہیں تاہم پیرس حکومت، ایران جوہری معاہدے کے من و عن نفاذ کے لئے پُرعزم ہے.
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس