تاریخ شائع کریں۲۶ فروردين ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۷:۳۱
خبر کا کوڈ : 414978

فلسطینی آبادی کو زمین بوس کردیا جائے،صہیونی عدالت

عدالت نے فلسطینیوں کی جانب سے نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد کر دی ہے
اسرائیل کی ایک عدالت نے یہودی کالونیوں کے تعمیر کے ایک ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بیت المقدس میں فلسطینیوں کے 500 گھروں کو زمین بوس کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے
فلسطینی آبادی کو زمین بوس کردیا جائے،صہیونی عدالت
اسرائیل کی ایک عدالت نے یہودی کالونیوں کے تعمیر کے ایک ادارے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بیت المقدس میں فلسطینیوں کے 500 گھروں کو زمین بوس کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے ۔
عدالت نے فلسطینیوں کی جانب سے نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد کر دی ہے ۔
اسرائیلی اخبار ہارٹس کے مطابق عدالت نے ان سبھی گھروں کو مسمار کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ گھر اس سرزمین پر بنے ہیں جہاں العاد ادارہ سیاحتی مقام بنانے کا منصوبہ رکھتا ہے ۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس علاقے میں 60 بلڈنگ ہیں جن میں 500 فلسطینی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ اس علاقے کے فلسطینیوں کو تعمیراتی کام میں بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں لائسنس نہیں ملتا ۔
العاد ادارے نے اس علاقے پر غیر قانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے اور سیاحتی مقام بنانے کے بہانے فلسطینیوں کو بے گھر کر رہا ہے۔
العاد ادارے کے اس قدم پر الازہر نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بیت المقدس کو یہودی رنگ دینے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کا موقف ناقابل قبول ہے ۔
الازہر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی حکومت کے اقدامات فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس