تاریخ شائع کریں۲۶ فروردين ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۶:۲۳
خبر کا کوڈ : 414940

نریندرمودی کانگریس کو’ مہاملاوٹ ‘قرار دے دیا

لوک سبھا انتخابات 2019 کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 18 اپریل کو ہوگی۔
نریندرمودی نے نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس کو’ مہاملاوٹ ‘قرار دیتے ہوئے رائے دہندگان سے کہا
نریندرمودی کانگریس کو’ مہاملاوٹ ‘قرار دے دیا
لوک سبھا انتخابات 2019 کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 18 اپریل کو ہوگی۔
ہندوستان میں لوک سبھا انتخابات 2019 کے دوسرے مرحلے کے تحت 13 ریاستوں کی 97 سیٹوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس میں آسام کی 5، بہار کی 5، چھتیس گڑھ کی 3، جموں و کشمیر کی 2، کرناٹک کی 14، مہاراشٹر کی 10، منی پور کی 1، تمل ناڈو کی 39، اترپردیش کی 8، مغربی بنگال کی 3 اور پونڈیچری کی 1 سیٹ شامل ہے۔
 دوسرے مرحلے کی انتخابی مہم  کے دوران اس ملک کے وزیراعظم نریندرمودی نے نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور کانگریس کو’ مہاملاوٹ ‘قرار دیتے ہوئے رائے دہندگان سے کہاکہ وہ ریاست میں ترقی کیلئے دہائیوں سے چلے آرہے ان سیاسی جماعتوں کے خاندانی راج کو ختم کریں ۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست میں علیحدہ وزیراعظم، فوج میں تخفیف، افسپا کی واپسی اور پاکستان سے پیسے لینے والوں کے ساتھ مذاکرات کی اجازت نہیں دے گی۔
ادھرنیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ مودی اور امت شاہ ہندوستان کو اور تباہی و بربادی کی طرف لے گئے ہیں اور آج بھی ملک کے لوگوں کو زبان، مذہب اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ بھاجپا نے اپنے منشور میں 370اور 35اے کو ہٹانے کا وعدہ کیا ہے۔ مودی، امت شاہ اور دیگر بھاجپا والوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں، ایسے کسی بھی اقدام کی صورت میں ایسی آگ بھڑکے گی جس کے شعلے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ آج آر ایس ایس کی حکمرانی ہے اور ہندوستان کے صدیوں کے سیکولر روایات کو دفنایا جارہا ہے، اقلیتوں کا کوئی پرسانِ حال ہی نہیں، ان کی آواز کو تقسیم کرکے مذہبی رواداری اور بھائی چارہ کی عظیم ریت کو نقصان پہنچایا جارہاہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس