تاریخ شائع کریں۸ فروردين ۱۳۹۸ گھنٹہ ۱۴:۴۹
خبر کا کوڈ : 411148

یمن پر سعودی جنگ دنیا کے سامنے جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے

حقیقت برملا کرنے کی ضرورت ہے کہ یمن میں ایران کا ہم مسلک کوئی فریق نہیں ہے
اس وقت دنیا کے سامنے یہ حقیقت برملا کرنے کی ضرورت ہے کہ یمن میں ایران کا ہم مسلک کوئی فریق نہیں ہے۔
یمن پر سعودی جنگ دنیا کے سامنے جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے
حقیقت یہ ہے کہ ایران شیعہ اثنا عشری اکثریتی ملک ہے اور یمن کے حوثیوں کا مسلک زیدیہ ہے اور دونوں میں فرق ہے جبکہ شام کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ بشار الاسد مسلکی لحاظ سے علوی ہے۔ اس وقت دنیا کے سامنے یہ حقیقت برملا کرنے کی ضرورت ہے کہ یمن میں ایران کا ہم مسلک کوئی فریق نہیں ہے۔

آج جب یمن پر سعودی فوجی اتحاد کی جارحیت اور یکطرفہ جنگ پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہے تو دنیا کے سامنے پچھلے چار سال کے واقعات اس جنگ میں جارحین کی ناکامی کا ناقابل تردید منہ بولتا ثبوت بن کر گذرچکے ہیں۔ یمن کے عوام کے جانی و مالی نقصانات اور مشکلات اپنی جگہ ایک حقیقت سہی، لیکن سعودی فوجی اتحاد اس جنگ کے اہداف کے حصول میں تاحال ناکام ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عالم اسلام و عرب میں اسکی خادم حرمین شریفین والی حیثیت بھی اسے ذلت و رسوائی سے بچانے میں ناکام رہی ہے۔ اس جنگ نے سعودیہ و امارات کی افواج کا امیج بھی خراب کردیا ہے کہ یہ سب اور اسکے اتحادی مل کر بھی ایک بے یار و مددگار ملت کو بھی جھکانے میں ناکام رہے ہیں۔ یعنی پچھلے چار سال سعودی، اماراتی فوجی اتحاد کی ایسی ناکامی و رسوائی کے سال تھے کہ طول تاریخ میں اسکی مثال ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ 
البتہ پچھلے چار سال کی اس جنگ نے پوری دنیا کے سامنے بہت سے تلخ حقائق کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ اس جنگ کے پچھلے چار سال ویسٹ فیلیا نیشن اسٹیٹ نظام اور موجودہ عالمی نظام جو اقوام متحدہ اور اسکے انٹرنیشنل لاء کے تحت چلایا جارہا ہے، ان سب کے کھوکھلے پن اور دوغلے پن کو بے نقاب کرتے ہوئے گذرے ہیں۔ یمن جنگ نے انسانی حقوق اور انسانی آزادی کے دعوے داروں کو بھی جھوٹا ثابت کردیا کہ موجودہ ورلڈ آرڈر کے تحت دنیامیں موجودسارے ممالک میں جمہوریتوں کے قیام، اقوام کے مابین امن اور شہریوں کے حقوق کے بلند بانگ دعوے مغربی بلاک نے کر رکھے ہیں، یہ سب کچھ کھوکھلے دعوے ہیں۔ نہ صرف اقوام متحدہ کی ناکامی بلکہ اسکے مستقل اراکین یا پانچ بڑی طاقتوں کی اجتماعی ناکامی کو بھی یمن پر سعودی فوجی اتحاد کی جارحیت نے دنیا کے سامنے آشکارا کردیا ہے۔

سعودی عرب نے ایک پڑوسی ملک کے اندرونی معاملات میں کھلی مداخلت کرتے ہوئے اس پر باقاعدہ جنگ مسلط کردی جبکہ اقوام متحدہ کو اپنے چارٹر کے باب ہفتم کے تحت سعودی فوجی اتحاد کے خلاف فوجی کاروائی کرتے ہوئے اسے یمن جنگ سے باز رکھنے کے لئے عملی کارروائی کرنا چاہئے تھی۔ دنیا میں قانون کی حکمرانی کا تقاضا یہی تھا کہ عالمی برادری بذریعہ فوجی طاقت سعودی و اماراتی افواج کو جنگ ختم اور یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت روکنے کا پابند بناتی۔ جن ممالک پر مشتمل فوجی اتحاد یہ جارحیت کررہے ہیں، وہاں خود غیر نمائندہ موروثی شیوخ و شاہ یا پھر آمر حکمرانی کررہے ہیں اور جس ملک پر جنگ مسلط کی گئی یعنی یمن یہاں تو خیر سے نمائندہ منتخب حکومت کے قیام اور شہری حقوق کی جدوجہد کرنے والے مہذب سیاسی کارکن تھے یا انکے حامی عوام کہ جن پربمباری کی جارہی ہے۔

یہ غیر نمائندہ و غیر منتخب شیوخ و شاہ و آمر جو اپنے ہی ممالک میں جمہوریت اور شہری آزادی و بنیادی انسانی حقوق کے قائل نہیں، ان کی حمایت کرکے امریکی قیادت میں جمع پورے نیٹو بلاک نے اپنی منافقت کو اپنے عمل سے ثابت کردیا ہے۔ دنیا کو افسوس اس تلخ حقیقت پر بھی ہے کہ روس اور چین بھی یمن کے مظلوموں کی دادرسی کو نہیں پہنچے۔ بین الاقوامی سفارتکاری میں انکی حیثیت ایسی ہے کہ انکی طرف سے یمن کی قومی مزاحمت کی حمایت سے انکی مشکلات میں کمی ہوجاتی۔ غیر ملکی جارحیت کا مقابلہ کرنے والے یمنیوں کی حقانیت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ملک میں غیر ملکی کٹھ پتلی حکمران کی بجائے نمائندہ حکومت قائم کرنے کی جدوجہد کررہے تھے، جس سے یمن کے دشمنوں نے خوفزدہ ہوکر جنگ مسلط کردی۔ 
یمن پر امریکی اتحادی سعودی عرب کی جنگ نے مغربی ذرایع ابلاغ کے کردار پر بھی سوالیہ نشان ڈال دیا۔ یمن کی جنگ کو اس غلط انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جارہا ہے گویا حرکت انصاراللہ یا حوثی تحریک ایک شیعہ فریق ہے اور دوسرا فریق گویا سنی ہے، جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران شیعہ اثنا عشری اکثریتی ملک ہے اور یمن کے حوثیوں کا مسلک زیدیہ ہے اور دونوں میں فرق ہے جبکہ شام کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ بشار الاسد مسلکی لحاظ سے علوی ہے۔ اس وقت دنیا کے سامنے یہ حقیقت برملا کرنے کی ضرورت ہے کہ یمن میں ایران کا ہم مسلک کوئی فریق نہیں ہے۔ اس حقیقت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ یہ مسلکی تنازعہ توہے ہی نہیں، سیدھا سیدھا ایک آزاد و خودمختار ملک پر بلاجواز غیر ملکی جنگ کا معاملہ ہے، جس میں یمن کے عوام اور انکی نمائندہ تحریکیں اور تنظیمیں اور مسلح افواج شانہ بشانہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور بلاتفریق مسلک و جماعت قومی دفاع کے عنوان سے غیر ملکی جارحین کے حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔

مغربی ذرایع ابلاغ سمیت جو بھی یمن کے عوام کے دفاعی حملوں کو باغیوں کی کارروائی کہتا یا لکھتا ہے، وہ سعودی فوجی اتحاد کی غیر قانونی جارحیت کی حمایت کررہا ہے اور اس جرم میں انکا شریک ہے۔ نہ صرف مغربی ذرایع ابلاغ بلکہ اقوام متحدہ بھی جانی نقصانات کے حوالے سے انتہائی کم اعداد و شمار پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔ 27 مارچ 2019ء کو بی بی سی کی یمن سے متعلق ایک خبر میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں 7025 شہری شہید اور 11,104 زخمی ہوئے ہیں، جبکہ آرمڈ کنفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ نے دسمبر 2018ء میں رپورٹ دی تھی کہ جنگ میں ساٹھ ہزار سے زائد یمنی مارے جاچکے ہیں۔ غذائی قلت کا یہ عالم ہے کہ ایک کروڑ یمنی شہری اقوام متحدہ کے مطابق قحط سے ایک قدم کے فاصلے پر ہیں۔ 27  مارچ کو ہی صعدہ صوبے کے اسپتال کے قریب سعودی بمباری سے سات شہری شہید ہوئے اور ان شہداء میں چار یمنی بچے بھی شامل ہیں۔

کیا بچے، کیا بوڑھے، کیا خواتین ، سعودی و اماراتی بمباری سے یمن کے شہری بلا تفریق شہید ہورہے ہیں کیونکہ بم اور گولے یمنیوں کی عمریں ، جنس اور فرقے نہیں دیکھتے۔ یمن کی اسی فیصد آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ تعلیم و صحت و روزگار سب کچھ سعودی اماراتی جارحیت نے تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ مساجد، اسپتال، اسکول، بازار، گھر، کوئی جگہ بمباری سے محفوظ نہیں رہی۔ جیسا کہ شروع میں ہی اس جنگ میں جارحین کی ناکامی کا تذکرہ کیا گیا، اسی ضمن میں یہ بھی ایک اہم نکتہ ہے کہ اب سعودی عرب کے سب سے اہم اتحادی امریکا کے ایوانوں میں بھی اس جنگ کو حاصل امریکی حمایت پر اعتراضات ہورہے ہیں۔ جس طرح عالم اسلام و عرب میں سعودی و اماراتی جارحیت کے خلاف رائے عامہ ہموار ہوچکی ہے اسی طرح امریکا و یورپی ممالک میں بھی جنگ مخالف رائے عامہ بن رہی ہے۔ گوکہ امریکی ایوانوں میں جو گورے اراکین ہیں ، وہ امریکا کو بدنامی سے بچانے کے لئے اس جنگ میں مدد و حمایت ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

لیکن امریکی کانگریس کی دو نومنتخب خاتون مسلم اراکین راشدہ طلیب اور الہان عمر نے جس طرح یمن جنگ کی مخالفت کی ہے، اس نے سعودی بادشاہت کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے، ان دونوں عرب نژاد امریکی خواتین نے فلسطین کی حمایت میں بیان دے کر اسرائیلی لابی کو بھی پریشان کردیا تھا۔ گوکہ امریکی حکومت سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے سے باز آنے والی نہیں، لیکن یہ چھوٹی چھوٹی آوازیں جو مخالفت میں بلند ہورہی ہیں، یہ بھی سعودی اسرائیلی لابی کو پسند نہیں۔ پچھلے چار سال کی یمنی مقاومت و مزاحمت اور جوابی حملوں کی صورتحال یہ ہے کہ خود سعودی عرب کہہ رہا ہے کہ یمن سے اس پر ستر ہزار راکٹ اور گولے برسائے جائے جاچکے ہیں۔ امارات کے حکام بھی یمنی جوابی کارروائیوں سے پریشان ہیں۔ البتہ اس جنگ کے ذریعے یہ دونوں ممالک یمن کے بعض صوبوں پر قابض ہوچکے ہیں۔

یمن کے صوبہ المھرہ جو پڑوسی ملک عمان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے اور جس کا دوسرا سرا بحر ہند پر واقع ہے، یہاں سعودی عرب تیل کی پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنائے بیٹھا ہے اور علاقے میں وہابیت کو بھی فروغ دے رہا ہے اور وہاں وہابی علماء سے بھی کام لیا جارہا ہے۔ جبکہ عدن میں امارات نے مقامی مسلح گروہوں کا نیٹ ورک بنالیا ہے اور وہاں انکے ذریعے معاملات امارات کے ہاتھ میں آچکے ہیں۔منصور ہادی عبد ربہ سعودی دارالحکومت ریاض میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گذاررہے ہیں اور انکی علالت کی خبریں گرم ہیں۔ یمن جنگ کا پانچواں سال اس طرح شروع ہورہا ہے کہ یمن عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے ، ایک حصے پر غیر ملک ی جارحین یا انکے وفادار مسلح گروہوں کا کنٹرول ہے اور دوسرے حصے پر یعنی دارالحکومت صنعا تا بحر احمر کی بندرگاہ حدیدہ تک یمن میں حرکت انصاراللہ یعنی حوثی تحریک اور انکے اتحادی نامساعد حالات میں بھی ملک کا نظم ونسق بھی چلارہے ہیں تو اپنے مادر وطن پر حملہ آوروں کا مقابلہ بھی کررہے ہیں۔

انکا چار سالہ جنگ کے بعد بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہنا ، دارالحکومت صنعا پر انکا کنٹرول برقرار رہنا، حدیدہ تک انکی موجودگی، یہ سب کچھ انکی محدود لیکن موثر کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ کوئی پسندیدہ حالت نہیں لیکن جب ایک ملت پر جنگ مسلط کردی جائے تو سوائے دفاع اور جوابی کارروائی کے ذریعے اپنی باعزت و باوقار ملت کی آزادی و خود مختاری کو باقی رکھنے کے کوئی اور آپشن بچتا ہی نہیں ہے۔ سعودی و اماراتی اتحاد کو یمن جنگ نے جس قدر دنیا بھر اور خاص طور مسلمان اور عرب ممالک میں رسوا کیا ہے، اگر ایران اور اسکے اتحادی اربوں ڈالر خرچ کرکے بھی ان شیوخ و شاہ کو عوامی سطح پر اس ذلت و رسوائی سے دوچار نہیں کرسکتے تھے، جتنا ان ممالک کے حکمرانوں نے بلاجواز عرب کش و مسلم کش جنگ کے ذریعے اپنے آپ کو خوار کروایا ہے۔ اب انکے پاس سوائے اسکے کوئی دوسری راہ نہیں بچتی کہ یمن جنگ کو غیر مشروط طور ختم کرکے یمن کے عوام کی آزادی و خود مختاری کو تسلیم کرکے انہیں داخلی معاملات پرامن مکالمے و مذاکرات کے ذریعے حل کرنے دیں۔ جنگ یمن کے کسی بھی داخلی مسئلے کو حل کرسکتی ہوتی تو ایسا پچھلے چار سال کی جنگ یہ ہدف حاصل کرچکی ہوتی!
تحریر: عرفان علی 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس