تاریخ شائع کریں۱۲ اسفند ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۵:۴۲
خبر کا کوڈ : 406081

پاکستان اور بھارت کی جنگ پر جانبدار موقف اپنانے پر سحر ٹی وی پر تنقید و جواب

بھارت کی حمایت اور پاکستانی انقلابی و نظریاتی شیعوں کی دل آذاری کی گئی
پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں سحر ٹی وی کی جانب سے اپنائے گئے ایک طرفہ موقف جس میں بھارت کی حمایت اور پاکستانی انقلابی و نظریاتی شیعوں کی دل آذاری
پاکستان اور بھارت کی جنگ پر جانبدار موقف اپنانے پر سحر ٹی وی پر تنقید و جواب
پاکستان اور بھارت کی جنگ پر یک طرفہ موقف اپنانے پر سحر ٹی وی پر تنقید و جواب
تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق ، پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ میں سحر ٹی وی کی جانب سے اپنائے گئے ایک طرفہ موقف جس میں بھارت کی حمایت اور پاکستانی انقلابی و نظریاتی شیعوں کی دل آذاری کی گئی، شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس تنقید کا جواب بھی سحر ٹی وی کی جانب سے دیا گیا ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

جناب سربراہ سحر ٹی وی السلام وعلیکم

بندہ حقیر سحر نیوز ٹی وی کی جانب سے اپنائے گئے جانبدار موقف جو کہ پاکستانی اور اردو زبان انقلابی مومنین کے لیے دباؤ کا باعث بنا ہے،اس جانبدار اور ایک طرفہ موقف پر شدید احتجاج کرتا ہوں،
سحر ٹی وی کا جوب:
ہمارا موقف ہمیشہ سے غیر جانبدار اور بے طرف ہے اگرچہ اپنے سرحدی جوانوں کے بہائے گئے ناحق خون کو ہرگذ نہیں بھولیں گے جو پاکستان میں موجود دہشتگرد عناصر نے بہایا ہے اور آپ بھی بجائے اس کے بھارت سے متعلق بے بنیاد دعوی کریں شہداء کا دفاع کریں۔
یہ سحر ٹی وی کا اپنا موقف ہے اور اس پر عمل کیا جاتا رہے گا اور آپ پاکستان کے سرکاری ٹی وی سے جاری ہونے والے سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرکی تقریر جس میں ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے تھے، پاکستان کے وزیر خارجہ کی خاموشی کو پاکستانی انقلابی دوستوں تک پہچائیں۔
برادر محترم:
وہ افراد جوبھارت کی حمایت کا بے بنیاد الزام لگا رہے ہیں ان کی باتوں پر کان نا دھریں ،اور ہمارے تمام امور کی جانچ کی جاتی ہے۔

پاکستانی انقلابی کا جواب:

جناب عالی
آپ کی اطلاعات پاکستان اور پاکستان کے شیعوں کے متعلق بہت ہی کم ہے۔
آپ کی اطلاع اور یاد دہانی کے لیے انقلاب اسلامی کی ابتداء اور دفاع مقدس سے لے کر آج تک شیعان پاکستان، انقلاب اسلامی کے حامی ہیں اور جو آپ فرما رہے ہیں کہ شہداء کے خون کا دفاع کریں، تو اگر آپ خود زحمت کرکے گلزار شہداء چلے جائے تو معلوم ہوگا کے کتنے پاکستانی شہید وہاں دفن ہیں یا حدّاقل ان کی تعداد ہی معلوم کرلیں۔

کیا آپ ڈاکٹر نقوی کو پہچانتے ہیں جن کو سفیر انقلاب کا نام دیا گیا تھا اور دفاع مقدس کے دوران  جنگ پر موجود تھے اور انقلاب اسلامی کے عاشق اور دلدادہ تھے ، جب حضرت امام خمینی رح کے فتوے کی بنیاد پر ایرانی حج پر نہیں گئے تو  شہید نقوی نے تنہا استکبار سے مقابلہ کرکے اپنا وٖیظفہ انجام دیا اور اس کی پاداش میں قید بند کی صحبتیں برداشت کی۔
جی ہاں: شہید نقوی ہی تھے جنہوں نے امام خمینی (رح) کے فرمان پر پاکستان میں القدس کا انعقاد کیا اور الحمد للہ آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ہم وہی پاکستانی ہیں جنہوں نے ہمیشہ انقلاب اسلامی کی حمایت کی ہے اور اس بات کی گواہ بہشت زہرا ؑ قبرستان ہے جیسے آپ خود ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
جناب عالی: یہ ہم ہی ہیں جو 22 بہمن( انقلاب اسلامی کی سالگرہ) کے جشن کو اپنے گھروں میں بھی مناتے ہیں۔
آپ جو ایک قومی ٹی وی چینل کے سربراہ ہیں آپ سے اس قسم کی باتیں بعید ہے کہ پاکستانی انقلابی سعودی وزیر خارجہ کی تقریر پر خاموش رہے ، اول یہ کہ ابتداء میں خود پاکستانی حکومت نے ایکشن لیا اور عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا گیا اور تمام پاکستان میں اس کے خلاف کمپین چلائی گئی جس کے نتیجے میں پاکستانی وزیر خارجہ کو خود اس مسئلہ پر توضیح دینا پڑی اور اس کے علاوہ "آئی ایس او" ( امامیہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن) کے جوان ایران کے خلاف کی جانے والی تقریر کے خلاف خاموش نہیں رہے اور دل و جان سے ایران کا دفاع کیا۔
جناب عالی :
ہم پاکستانی آپ ایرانیوں سے زیادہ انقلابی ، ولائی اور عاشق رہبر انقلاب اسلامی ہیں۔
پاکستانی انقلابیوں کی جانب سے کیے گئے اعتراض جو کہ درست تھے ، اس اعتراض کے بدلے میں آپ کا جواب پاکستان کے انقلابی شیعوں کے جذبات کے خلاف تھا۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس