تاریخ شائع کریں۵ اسفند ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۲:۰۷
خبر کا کوڈ : 404483

ایم بی ایس کا علاقائی دورہ پاکستان کیلیے سبق

پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے کہ ایک منصفانہ و عادلانہ خارجہ پالیسی وضع کرے
سعودی ولی عہد سلطنت محمد بن سلمان کے دورہ بھارت و چین یا سعودی عرب کے بھارت و چین کے ساتھ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی قوم حکومتی و ریاستی حکام سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوگی
ایم بی ایس کا علاقائی دورہ پاکستان کیلیے سبق
سعودی ولی عہد سلطنت محمد بن سلمان کے دورہ بھارت و چین یا سعودی عرب کے بھارت و چین کے ساتھ تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی قوم حکومتی و ریاستی حکام سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوگی کہ قیام پاکستان سے اسی ایک مغربی آربٹ میں ہوتے ہوئے بھی سعودی عرب نے پاکستان کو کبھی اس قابل کیوں نہیں سمجھا کہ اس کے ساتھ ویسے ہی اچھے تعلقات رکھتا، جیسے اسکے بھارت و امریکا کے ساتھ ہیں جبکہ سعودی عرب کے لئے خدمات پاکستان نے انجام دی ہیں، بھارت اور چین نے اس کی کبھی اس طرح مدد و خدمت نہیں کی، جیسی ریاست پاکستان نے کی۔۔
اسی طرح مغربی آربٹ میں رہنے والے سعودیہ سے بھی پوچھا جانا چاہیئے کہ امریکی بلاک میں ہوتے ہوئے بھی وہ چین کو بڑا تجارتی شراکت دار بنا چکے ہیں تو پھر وہ مسلمان ملک ایران جو آپ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کی خواہش کا بارہا اظہار کرچکا ہے، اس پر بادشاہت سعودیہ عربیہ جو کہ اسلامی فرقوں کے لحاظ سے غیر مقلد ہے، وہ ایران کے خلاف کیوں واشنگٹن اور تل ابیب کی مقلد بنی ہوئی ہے!
ایم بی ایس کے دورہ بھارت میں جو کچھ ہوا، یہ پاکستانی ریاست کے حکام کے لئے ایک سبق ہے۔ 1955ء میں سعودی بادشاہ سعود بن عبدالعزیز کا دورہ بھارت ہو یا 1956ء میں بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو کا دورہ سعودی عرب ہو یا اس کے بعد نہرو کی بیٹی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کا دورہ سعودی عرب ہو یا سعودی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا 2006ء میں دورہ بھارت ہو۔ سال 2010ء میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا دورہ سعودی عرب اور اس کے بعد ولی عہد سلطنت سلمان بن عبدالعزیز کا 2014ء میں دورہ بھارت اور 2016ء میں بھارتی وزیراعظم شری نریندرا مودی کا دورہ سعودی عرب ہو یا تازہ ترین دورہ جو سعودی ولی عہد سلطنت ایم بی ایس نے اسی مہینے انجام دیا ہے اور خاص طور پر ایم بی ایس کے تایا عبداللہ بن عبدالعزیز کے دورے اور اس کے بعد سے بھارت اور سعودی عرب کے تعلقات جتنی تیزی سے بڑھتے چلے گئے، اس پر سویلین حکومت اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو تنقیدی نگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ بھارت چین کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جبکہ سعودی عرب بھارت کا چوتھا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ بھارت کے چاروں بڑے تجارتی شراکت دار یعنی چین، امریکا، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب پاکستان کے دوست اور اتحادی ممالک ہیں اور ان چاروں کا ہی جھکاؤ بھارت کی طرف ہے۔ سعودی ولی عہد سلطنت کے دورہ بھارت پر جو جوائنٹ اسٹیٹمنٹ یا مشترکہ بیان جاری کیا گیا، اسکا موازنہ ان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے جاری کئے گئے مشترکہ بیان سے کرلیں تو معلوم ہوگا کہ بھارت اور سعودی عرب کا دفاعی و سلامتی شعبوں میں تعاون موجود ہے۔ 54 نکاتی مشترکہ بیان میں بھارت اور سعودی عرب نے نکات نمبر 29 سے 42 تک جن امور پر مشترکہ موقف اختیار کیا ہے، اس میں نکات نمبر 38 اور 39 کے علاوہ سبھی نکات پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف ہیں۔

یہ نکات واضح ہیں: 
29. The two sides welcomed the recent developments in India-Saudi co-operation in the defence sector, particularly in the fields of exchange of expertise and training, especially after the MoU on Defence Cooperation signed during the visit of His Majesty King Salman bin Abdulaziz Al Saud to India in February 2014. In this context, they welcomed the outcomes of the recently held 4th Joint Committee on Defence Cooperation in Riyadh on 2-3 January, 2019.
30. The two sides agreed to hold the inaugural joint naval exercises at the earliest and agreed to further expand bilateral exercises in other domains.
31. Noting the potential and mutual benefit, the two sides agreed to cooperate and collaborate in joint defence production of spare parts for Naval and Land systems as well as supply chain development, in line with 'Make in India' and 'Vision 2030'.

32. The two sides agreed to work together with other Indian Ocean Rim Countries for enhancing maritime security, vital for the security and prosperity of both countries and safe passage for international trade. 
33. With regards to regional connectivity projects, both sides agreed that they should be based on international law including respect for sovereignty and territorial integrity of states.
34. The two sides stressed the importance of regional stability and good neighbouring relations. His Royal Highness appreciated consistent efforts made by Prime Minister Modi since May 2014 including Prime Minister's personal initiatives to have friendly relations with Pakistan. In this context, both sides agreed on the need for creation of conditions necessary for resumption of the comprehensive dialogue between India and Pakistan.

35. Affirming that the menace of extremism and terrorism threatens all nations and societies, the two sides rejected any attempt to link this universal phenomenon to any particular race, religion or culture. Both sides called on all states to reject the use of terrorism against other countries; dismantle terrorism infrastructures where they happen to exist and to cut off any kind of support and financing to the terrorists perpetrating terrorism from all territories against other states; and bring perpetrators of acts of terrorism to justice. The two sides also noted the need for concerted action by the international community against terrorism including through early adoption of the UN Comprehensive Convention on International Terrorism and underlined the importance of comprehensive sanctioning of terrorists and their organisations by the UN.

اس میں نکتہ نمبر 33 کا ہدف کیا ہے، سوائے اس کے کہ یہ چین و پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک منصوبہ پر اعتراض ہے، کیونکہ مودی حکومت کی نظر میں یہ بعض ایسے علاقوں سے گذر رہا ہے، جو انٹرنیشنل لاء کے مطابق پاکستان و چین کا قانونی لحاظ سے جغرافیائی حصہ نہیں ہیں اور بھارت اس کو اپنی حدود قرار دیتا ہے۔ نکتہ نمبر 44 میں سعودی ولی عہد ایم بی ایس نے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی تعریف کی ہے کہ وہ مئی 2014ء سے ذاتی طور پر پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لئے کوشاں ہیں۔ مطلب یہ کہ جب نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم تھے، تب سے موجودہ سعودی ولی عہد کے مطابق مودی کی پالیسی برائے پاکستان قابل تحسین ہے۔ کیا ریاست پاکستان مودی کے بارے میں ایم بی ایس یا سعودی سلطنت کے اس موقف سے متفق ہے۔؟

بھارت کے موقف برائے حافظ سعید و مسعود اظہر کو ذہن میں رکھتے ہوئے نکتہ نمبر 35 کا مطالعہ کریں۔ جوں ہی ایم بی ایس کا دورہ بھارت تمام ہوا، پاکستان کی وزارت داخلہ کا بیان پاکستانی ذرائع ابلاغ پر نشر ہوا کہ جماعت الدعوۃ اور اس کی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اسکے بعد بہاولپور میں مسعود اظہر کی کالعدم جیش محمد کے ہیڈکوارٹر کے طور پر جو مدرسہ و عمارت تھی، اس پر چھاپہ مار کر سیل کر دیا گیا۔ یعنی بھارت کے کہنے پر تو ان جماعتوں کے خلاف سنی ان سنی کی جاتی رہی، لیکن جب ولی عہد سلطنت کے دورے میں بھارت نے یہ مسائل اٹھائے تو پاکستان سے بوٹ کی دھمک اور یس سر کی صدا کے ساتھ سیلیوٹ کا سا تاثر سبھی محسوس کر رہے ہیں۔ سعودی و بھارتی مشترکہ بیان کا نکتہ نمبر 36 یہ ہے کہ جموں و کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے کی شدید ترین مذمت کی گئی۔
37. The Prime Minister and His Royal Highness condemned in the strongest terms, the recent terrorist attack on Indian security forces on 14 February, 2019 in Pulwama in Jammu & Kashmir.

اس کے ساتھ ساتھ ایم بی ایس کے دورہ بھارت کے حوالے سے مشترکہ بیان کے نکات نمبر 40، 41 اور 42 پر بھی اچھی طرح غور فرمالیں:
40. To enhance further cooperation in the Counter-terrorism efforts and benefit mutually from real-time intelligence sharing, the two sides agreed to constitute a 'Comprehensive Security Dialogue' at the level of National Security Advisors and set up a Joint Working Group on Counter-Terrorism.
41. The Prime Minister and His Royal Highness reiterated to continue the ongoing close cooperation on a range of security issues, particularly on maritime security, law enforcement, anti-money laundering, drug trafficking, human trafficking, illegal migration, and other transnational organized crimes.
42. Expressing serious concerns at the misuse of cyber space as a medium to promote subversive and extremist ideologies, the two sides welcomed the signing of MoU on Technical Cooperation in Cyber Space and Combating Cyber Crime. Both sides agreed to promote cooperation including prevention of the use of Cyberspace for terror, radicalism and incitement to disturb social harmony.

ایم بی ایس کے دورہ بھارت اور چین کے دوران ایران کے خلاف ایک لفظ سعودی حکام کے منہ سے نہیں نکلا، لیکن پاکستان میں بیٹھ کر وہ ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے چلے گئے۔ یہ ایک بنیادی فرق ہے پاکستان اور اس کے دو پڑوسی ممالک چین اور بھارت کے درمیان۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ پاکستان و بھارت نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے سعودی ولی عہد سلطنت کو ان کی اوقات سے زیادہ پروٹوکول دے کر برصغیر کی بادشاہ پرستانہ خصلت کا اعادہ کیا، جبکہ چین میں صدر یا وزیراعظم تو ایک طرف وزیر خارجہ تک ایئرپورٹ پر محمد بن سلمان کو دیکھنے نہیں آیا، حالانکہ چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ وہ فرق ہے جو بھارت اور پاکستان سے چین کو ممتاز کرتا ہے۔ دوسرا فرق یہ ہے کہ چین کی قیادت نے ایم بی ایس کے دورے سے قبل ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں اور ایم بی ایس کے دورے سے پہلے چینی صدر کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات کو مزید گہرا کرے گا۔

ایم بی ایس اور سعودی عرب کے حوالے سے پاکستان کے لئے پیغام یہ ہے کہ سعودی عرب بھارت کو زیادہ اہم ملک سمجھتا ہے اور اس غلط فہمی سے نکلا جائے کہ سعودی عرب ہماری مدد کرے گا بلکہ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ تل ابیب پالیسی بناتا ہے، اس پر امریکی اسٹیبلشمنٹ میڈ ان امریکا کا لیبل لگا کر ریاض بھیجتی ہے، جہاں سے سعودی بادشاہ اس پر خادم حرمین شریفین کا ٹھپہ لگا کر پاکستان جیسے ملکوں کو استعمال کرتا آیا ہے۔ امریکا نے بحر ہند اور بحر الکاہل میں بھارت کو اہم کردار سونپا ہے، جس میں چین کو حریف بنایا گیا ہے اور سعودی عرب نے اس امریکی پالیسی کو آگے بڑھایا ہے، کیونکہ بھارت کے ساتھ بحر ہند میں میری ٹائم تعاون کا تذکرہ ایم بی ایس کے دورے کے مشترکہ بیان میں کیا ہے۔
سعودی عرب اور امریکا کی ڈکٹیشن پر بھارت کو خوش کرنے کے لئے کلبھوشن کیس کے باوجود اگر سہولیات دی جا سکتی ہیں، فلاح انسانیت پر پابندی لگائی جاسکتی ہے، بہاولپور میں کالعدم گروہ کے صدر دفتر کو سیل کیا جاسکتا ہے تو ایک برادر پڑوسی مسلمان دوست ملک ایران کے خلاف جنداللہ یا جیش العدل کے نیٹ ورک کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے، کیونکہ ایران نے کسی کشمیر پر قبضہ نہیں کر رکھا، ایران میں کوئی پاکستانی فوجی یا سفارتکار مارا نہیں گیا، ایران میں کوئی ایرانی گروہ ایسا نہیں، جو سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی کی طرح فلاں کافر فلاں کافر، مارو مارو، کے نعرے لگاتا پھرے۔

پاکستانی قوم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہے کہ امریکا اور اسرائیل سعودی عرب کے ذریعے پاکستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کر ررہے ہیں اور ایسا سمجھنے کی ٹھوس وجہ یہ ہے کہ عبدالمالک ریگی پاکستانی مدرسے میں پڑھا کرتا تھا اور اس کے پاس پاکستانی شناختی دستاویزات ہوا کرتی تھیں، ملا منصور پاکستانی پاسپورٹ پر ایران جایا کرتا تھا۔ پاکستان میں ایرانی سفارتکار، انجینیئر، فوجی کیڈٹس اور عام شہریوں کو بھی دہشت گردوں نے قتل کیا، ریگی سے جیش العدل تک بہت سے ایسے مواقع آئے کہ ایران بھی پاکستان کا میڈیا ٹرائل بھی کرسکتا تھا اور یہ فائل عالمی عدالت لے جا سکتا تھا، لیکن ایران نے بھائی ہونے کا حق ادا کیا اور معاملات کو افہام و تفہیم سے، مکالمے سے اور عوام الناس کو جذباتی کئے بغیر خوش اسلوبی سے طے کیا۔ اسکا موازنہ متحدہ عرب امارات و سعودی عرب سے کرلیں، فرق صاف ظاہر ہو جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے پاکستان کو کھلی دھمکی دی تھی۔ جب پاکستان کی پارلیمنٹ نے متفقہ قرارداد منظور کرکے یمن کے ایشو پر سعودی و اماراتی اتحاد کی جنگ میں ان کی طرف سے شرکت پر معذرت کی تھی، تب ہماری غیر جانبداری پر انہوں نے دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو اس کی بہت بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ ان کا بیان واضح تھا کہ اقتصادی تعاون و سرمایہ کاری کے بدلے میں انہیں پاکستان سے سپورٹ چاہیئے۔ سعودیہ یا امارات میں کسی دہشت گرد گروہ نے نہ تو کوئی فوجی مارا تھا اور نہ ہی اغوا کیا تھا، اس کے باوجود سعودی و اماراتی خفا تھے۔ جب عادل الجبیر امریکا میں سعودی سفیر تھے اور پاکستان میں زرداری حکومت تھی تب شاہ عبداللہ نے بھی اور اس عادل الجبیر نے بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی۔ عادل جبیر نے امریکی حکام سے کہا تھا کہ ہم پاکستان میں آبزرور نہیں بلکہ شریک ہیں۔

وکی لیکس نے جو امریکی دستاویزات منکشف کیں، جو پاکستانی و مغربی ذرائع ابلاغ نے جاری کیں، اس میں سعودی عرب کے پاکستان سے متعلق حاکمانہ رویئے کی روداد موجود ہے۔ اگر وہ نہ بھی ہوتیں، تب بھی سعودی وزیر مملکت عادل جبیر کا اسلام آباد میں ایران مخالف بیان اور نئی دہلی و بیجنگ کے دوروں میں سعودی حکام کی ایران کے خلاف خاموشی، یہ ایک فرق ہی ناقابل تردید ثبوت ہے۔ فیصلہ ریاست پاکستان کو کرنا ہے کہ جس کا موقف ہے کہ وہ سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تنازعہ میں فریق نہیں اور ریاست پاکستان کی پالیسی برائے ایران سعودی عرب کی پالیسی سے مختلف ہے، ریاست پاکستان ایران کو اپنا برادر دوست پڑوسی مسلمان سمجھتی ہے اور اسکے ساتھ اسکے بہترین تعلقات ہیں، یہ ریاستی موقف ہے۔ لیکن ایم بی ایس کے دورے اور جیش العدل کی کارروائیوں نے ریاست پاکستان کے اس سوال پر سوالیہ نشان ڈال دیا ہے کہ آیا واقعی ریاست کا عمل بھی اس قول سے ہم آہنگ ہےَ، کیونکہ سعودی مہمان نے میزبان ملک پاکستان کو ایران کے سامنے شرمندہ کیا اور مشکل اور آزمائش میں ڈال دیا ہے، اس سے فوری طور پر نکل آنا ہمارے مفاد میں ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے اسرار و رموز سے آگاہ ہر شخص جانتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی مشکلات میں جو خارجی عوامل کار فرما ہیں، ان میں سرفہرست امریکی و سعودی دباؤ ہے، جس کی وجہ سے پاکستان نے ایران سے گیس پائپ لائن کی تکمیل کے منصوبے پر کام بند کر رکھا ہے۔ ہمارے ملک میں انرجی بحران ہے۔ ایران سے جو گیس آنی ہے، اس سے ہمارا انرجی بحران حل ہو جاتا۔ یہ دسمبر 2014ء میں مکمل ہونا تھی، اگر یہ مکمل ہو جاتی تو ہمارا انرجی بحران ختم ہو جاتا، ہمارے ملک میں نہ صرف یہ کہ اضافی بجلی پیدا ہوتی تو لوڈشیڈنگ ختم ہو جاتی بلکہ پیداوار میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جاتا۔ یعنی ہماری برآمدات میں بھی اضافہ ہوتا، روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہوتا۔ لیکن امریکا اور سعودی عرب کے دباؤ پرپاکستان نے اس منصوبے پر کام روک رکھا ہے۔

پاکستانی ایوان صنعت و تجارت کے سابق صدر کہہ چکے ہیں کہ پاکستان ایران سے پانچ ہزار میگاواٹ بجلی خریدے، جو ڈیڑھ بلین ڈالر مالیت کی ہوگی، لیکن اس بجلی سے صنعتی انقلاب برپا ہو جائے گا اور ایک سال ہی میں پاکستان اس بجلی کی قیمت ادا کرنے کے قابل ہوگا۔ اگر صرف اس ایک مد میں یعنی انرجی سیکٹر میں امریکا اور سعودی عرب نے ایران سے انرجی نہ لینے کی ڈکٹیشن دے کر پاکستان کو جو نقصان پہنچایا ہے، اسی کا حساب کتاب کر لیں تو یہ سمجھنا بہت آسان ہے کہ امریکا و سعودی عرب سے تعلقات کی پاکستان نے جو قیمت اب تک چکائی ہے، اس کے نتیجے میں میرے جیسا عام پاکستانی شہری سعودی امریکی بلاک کو کبھی بھی پاکستان کا دوست نہیں سمجھے گا۔

سعودی و اماراتی و امریکی حامی پاکستانیوں سے اور ریاستی حکام سے صرف اتنا کہنا ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ امریکا، چین، سعودیہ و امارات و بحرین کے بہترین قریبی دوستانہ تعلقات پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے، حتیٰ کہ امریکا، سعودیہ و امارات کی دھمکیوں اور حاکمانہ رویئے پر بھی انہوں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے تو بھارت کے ساتھ ایران کے تعلقات کو بھی دل سے تسلیم کرلیں، کیونکہ یہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے کہ ایک منصفانہ و عادلانہ خارجہ پالیسی وضع کرے، ایران کے ساتھ سوتیلے سلوک نے ایران سے زیادہ پاکستان کا اپنا نقصان کیا ہے۔ جنہیں مسلک، فرقہ یاد آتا ہے، وہ یہ دیکھ لیں کہ جمال عبدالناصر کے خلاف بھی سعودی عرب نے امریکا و اسرائیل کی پالیسی کے مطابق سازشیں کیں تھیں، جبکہ جمال عبدالناصر تو اسرائیل کے دشمن تھے۔ اسی طرح آج کل بھی جس کو اسرائیل دشمن کہتا ہے، سعودی عرب ان سنی مسلمان گروپس کو بھی دشمن و دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس