تاریخ شائع کریں۴ اسفند ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۲۳
خبر کا کوڈ : 404224
تقریب اسپیشل

عالمی طاقتیں بالخصوص امریکہ پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے ہے

سعودی الیعہد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے بارے میں پاکستان کی بعض اہم شخصیات کا رد عمل
بن سلمان کے دورے کے حوالے سے پاکستان کے عوام میں پائے جانے والے خدشات سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور حکومت پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ مشکلات برداشت کی ہیں اور کررہا ہے
عالمی طاقتیں بالخصوص امریکہ پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے ہے
سعودی ولی عہد بن سلمان کے دورۂ پاکستان کے خلاف اس ملک کے عوام کا احتجاج

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورۂ پاکستان کے خلاف اس ملک کے عوام اور سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما سراپا احتجاج رہے اور انہوں نے سعودی ولی عہد کے دورے کو پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔

پاکستانی عوام کے بن سلمان کے خلاف مظاہروں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کو اپنا دورہ ایک دن کے لئے ملتوی کرنا پڑا۔

مظاہرین نے یمن پر جنگ مسلط کرنے، شام کے خلاف سازش اور اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے بن سلمان کے اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی- پاکستان کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں بن سلمان اور سعودی حکومت کی مداخلت سے پاکستان کے لئے شدید مشکلات پیدا ہوں گی۔

پاکستانی سیاستداں اور سابق سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی مالی حمایت کی وجہ سے ہی علاقے میں دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیاں انجام دیتے ہیں۔

پاکستانی سیاستداں اور سابق سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے ارنا سے گفتگو کے دوران ایران جنوب مشرقی شہر زاہدان کے حالیہ دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو سعودی عرب مالی مدد دے رہا ہے اور اسی وجہ سے ان گروہوں نے علاقے کو اپنی جولانگاہ میں تبدیل کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ اور ان کے سرپرستوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہئے۔

پاکستانی سیاستداں طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی ہم آہنگی اور مشترکہ تعاون سرحدوں پر دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کا بہترین راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے میں جو دہشت گرد گروہ اپنا اڈہ بنائے ہوئے ہیں وہ انتہائی بدترین دہشت گرد گروہ ہیں اور انہیں کسی بھی طرح کی چھوٹ نہیں دینی چاہئے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد کا دورہ پاکستان اور ان کے وزراء کے بیانات سے خطے میں سعودی ایجنڈا واضح ہوگیا ہے اور ضرورت پڑنے پر پاکستان کو دوسروں کی جنگ میں دھکیلنے کے خدشات کی تصدیق ہوگئی ہے، عالمی طاقتیں بالخصوص امریکہ پاکستان کو تنہا کرنے کے درپے ہے، ہم ماضی میں امریکہ کے کہنے پر افغان جنگ کا حصہ بنے، جس کے نقصانات آج تک بھگت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سرزمین پر بیٹھ کر ایک پڑوسی ملک کے خلاف سعودی وزیر کے سنگین ترین الزامات نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہیں بلکہ ہمارے قومی مفادات کے بھی برعکس ہیں۔

جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر اور نائب صدر متحدہ مجلس عمل پیر اعجاز احمد ہاشمی نے لاہور میں مختلف وفود سے گفتگو میں متوازن خارجہ پالیسی کی تشکیل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان میں جس طرح سے پذیرائی کی گئی، ہم امید کرتے ہیں کہ عمران حکومت ترکی اور ایران کے سربراہان مملکت کو بھی اسی طرح کا پروٹوکول دے کر ان کی عزت افزائی بھی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ امریکی گروپ کی طرف جھکاو سے پاکستان کا ناقابل تلافی قومی نقصان ہوگا، کہیں ایسا نہ ہو کہ سعودی عرب کو اہمیت دینے میں ہم باقی دوست ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔

انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان میں امریکی اثرورسوخ بڑھ رہا ہے، وزارت خارجہ کو اس پر غور کرنا چاہیئے کہ ہم چین، ترکی، ایران اور روس سے دور کیوں ہو رہے ہیں، محمد بن سلمان کا کردار وہی ہے، جو خطے میں پہلے امریکی ایجنٹ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا ہوا کرتا تھا۔ یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ سعودی ولی عہد کو امریکہ استعمال کررہا ہے۔

جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان کو امت مسلمہ میں اتحاد اور یمن کے مسئلے کے حل پر زور دینا چاہیئے تھا۔

پاکستان کے ممتاز دانشور اور تجزیہ نگار عرفان علی نے ہمارے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی ولی عہد بن سلمان کی پالیسیاں امریکی منصوبوں پر استوار ہیں اور امریکہ علاقے میں امن و سلامتی کا خواہاں نہیں ہے اور واشنگٹن بن سلمان کے ذریعے پاکستان کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے ممتاز تجزیہ نگار عرفان علی نے کہا کہ سعودی عرب نے علاقے اور علاقے سے باہر انتہاپسندی اور دہشت گردی کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بن سلمان کے دورے کے حوالے سے پاکستان کے عوام میں پائے جانے والے خدشات سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور حکومت پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ مشکلات برداشت کی ہیں اور کررہا ہے۔

عرفان علی نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی اور مذہبی حلقوں نے بھی بن سلمان کے دورۂ پاکستان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
 
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس