تاریخ شائع کریں۳۰ بهمن ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۷:۵۲
خبر کا کوڈ : 403381

کلبھوشن یادو کیس میں پاکستان نے عالمی عدالت کے سامنے دلائل پیش کردیئے

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبوں میں ملوث رہا،وہ خاص طور پر سی پیک کو نشانہ بنانا چاہتا تھا،اس کے علاوہ تربت گوادر کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔
کلبھوشن یادو کیس میں پاکستان نے عالمی عدالت کے سامنے دلائل پیش کردیئے
عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف کیس کی سماعت کے دوسرے روز پاکستانی وکیل خاور قریشی نےکلبھوشن کے پاسپورٹ سے متعلق برطانوی رپورٹ پیش کردی۔

ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے آغاز میں پاکستانی وفد کے سربراہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی کی غیرحاضری پر تشویش کا اظہار کیا اور ایڈہاک جج تبدیل کرنے کی درخواست کی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ تصدق حسین جیلانی بیمار ہیں، کسی بھی ریاست کو ایڈہاک جج تعینات کرنے کا اختیار ہے۔

عالمی عدالت انصاف نے جسٹس تصدق حسین جیلانی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور صدر عالمی عدالت انصاف یوسف القبی نے پاکستان کے ایڈہاک جج کی غیرحاضری میں سماعت جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔

صدر عالمی عدالت نے ریمارکس دیے کہ تصدق جیلانی سےمتعلق آپ کے سوال کا جواب مناسب وقت میں دیا جائےگا۔

عالمی عدالت انصاف میں دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو نے اپنی تمام سرگرمیاں بھارتی ایما پر کیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی جاسوس کی سرگرمیاں انفرادی طور پر نہیں تھیں وہ ایک نیٹ ورک کے طور پر کام کررہا تھا۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبوں میں ملوث رہا،وہ خاص طور پر سی پیک کو نشانہ بنانا چاہتا تھا،اس کے علاوہ تربت گوادر کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔

انور منصور خان نے کہا کہ دہشت گردی میں اب تک پاکستان کو ایک سو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، پاکستان دہشت گردی سےمتاثر ہونے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی عدالت کے باہر بڑا دھماکا کیا گیا جس میں سیکڑوں وکیل جاں بحق ہوئے تھے، آرمی پبلک اسکول پشاور حملے میں بھارت براہ راست ملوث تھا جس میں 140 معصوم بچوں کو شہید کیا گیا۔

اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف سے قانون کے مطابق کارروائی کی توقع کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہاہے ،ان کامزید کہنا تھاکہ بھارت نے پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کرائی اور جاسوس بھیجے، بھارت نے ہمیشہ پڑوسیوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی۔

اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بھارت کی مداخلت اور دہشت گردی کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے، خودکش حملہ آوروں نے پاکستان میں سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا، کراچی میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی منصوبہ بندی ڈھکی چھپی نہیں، بھارت، پاکستان دشمن ملیشیا کی فنڈنگ اور تربیت کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنی دہشت گرد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی جاسوس کو بلوچستان، گوادر،کراچی میں دہشت گردی کروانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

بعد ازاں عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جاسوس کی ایران سے اغوا کی کہانی بے بنیاد ہے، انہیں ایران سے نہیں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کلبھوشن کے پاسپورٹ سے متعلق برطانوی رپورٹ پیش کردی ہے، بھارت کا پاسپورٹ نظام مرکزی طور پر قائم ہے، کوئی بھی جعلسازی فوراً پکڑی جاسکتی ہے۔
خاورقریشی نےاپنے دلائل کےدوران بھارتی قومی سلامتی کےمشیر اجیت دوول کے انٹرویو کا حوالہ دیا، انہوں نے کہا کہ اجیت کا کہنا تھا کہ کلبھوشن پاکستان کوعدم استحکام کاشکار کرنے کے لیے ایک آلہ کار تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اجیت دوول نے انٹرویو میں بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کااعتراف بھی کیا تھا۔

خاور قریشی نے کہا کہ اجیت دوول کے بقول کلبھوشن نے بلوچستان میں دہشت گردی میں اہم کردار ادا کیا ،انہوں نے بتایا کہ اجیت نے یہ تک کہا تھا کہ پاکستان بلوچستان سے ہاتھ دھو دے گا۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن اور اس کے خاندان کو فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا تھا۔

پاکستانی وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر ہمیشہ پروپیگنڈا کیا لیکن بھارت یہ بتانے میں ناکام رہا کہ کلبھوشن اپنے پاسپورٹ پر کیسے سفر کرتا رہا۔

خاور قریشی نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی طویل فہرست موجود ہے۔

خاور قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کے پاس مسلم شناخت والا اصل بھارتی پاسپورٹ موجود تھا لیکن بھارت کلبھوشن کے مصدقہ پاسپورٹ سے متعلق سوالات کی وضاحت نہیں کرسکا۔

انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کیس کے دوران بھارت نے ہمیشہ بداعتمادی کا مظاہرہ کیا۔
پاکستانی وکیل نے کہا کہ کلبھوشن یادیو سےمتعلق 3مستندبھارتی صحافیوں کی تحقیقاتی رپورٹس سامنے ہیں۔

خاور قریشی نے کہا کہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے بنایا گیا پاسپورٹ 2003 میں جاری کیا گیا اور 2014 میں اس کی تجدید کی گئی تھی۔اس پاسپورٹ پردرج پتےکی جائیدادکی مالک کلبھوشن کی والدہ ہیں۔

پاکستانی وکیل نے کہا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کی شہریت کا اعتراف نہیں کیا تو وہ قونصلر رسائی کا مطالبہ کیسے کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔

خاور قریشی نے کہا کہ ایک طرف بھارت پاکستان کے خلاف عالمی عدالت میں موجود ہے اور دوسری جانب بھارت، پاکستان کے سوال کا تحریری جواب جمع نہیں کروارہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن کا اطلاق کسی بھی جاسوس کے معاملے پر نہیں ہوتا۔

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت ہیگ میں قائم 15 ججوں پر مشتمل عالمی عدالت انصاف میں 18 سے 21 فروری تک کی جائے گی، اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور پاکستانی وفد کی قیادت جبکہ ڈائریکٹر جنرل ساؤتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل دفتر خارجہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔

گزشتہ روز عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کے دلائل دیتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر کلبھوشن یادیو کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔
بھارتی وکیل ہرش سیلو نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کے خلاف افراتفری اور جاسوسی کے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔

ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت کے آغاز میں سیلو نے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو کا کورٹ مارشل اس مرحلے کے معیار پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اسے غیر قانونی قرار دیا جائے۔

انہوں نے ججز سے اصرار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور انسانی حقوق کے تحت ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔

یاد رہے کہ ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں ’را‘ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔

کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد 'را' کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا ۔

ویڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔

بعدازاں اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی توثیق 10 اپریل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس