تاریخ شائع کریں۲۸ بهمن ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۷:۵۳
خبر کا کوڈ : 402868

شہید جھاد مغنیہ اسلامی استقامت کی بہترین مثال ہیں

ایرانی پارلیمنٹ کی سابق رکن " فاطمہ آلیا " نے کہا
جھاد مغنیہ اس وقت جوانوں کے لیے نمونہ عمل بن چکے ہیں جس کی وجہ انہوں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس نے استقامت اور جھاد کی راہ میں بہت سی قربانیاں دیں ہے
شہید جھاد مغنیہ اسلامی استقامت کی بہترین مثال ہیں
شہید جھاد مغنیہ اسلامی استقامت کی بہترین مثال ہیں

تقریب خبر رساں ایجسنی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی سابق رکن " فاطمہ آلیا " نے تقریب کے خبرنگار سے گفتگو کرتے ہوئے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خطاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا " کسی بھی قوم و ملک کے لیے جوان ایک اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور جن نوجوانوں نے جنگ اور انقلاب کے زمانے کو درک نہیں کیا وہ اس وقت دشمن کے نشانے پر ہیں اور دشمن چاہتا ہے ان کو گمراہ کرکے ایک بند گلی میں پہچادیں۔
انہوں نے کہا جبہہ مقاومت اسلامی کسی بھی ملک اور خطہ سے مخصوص نہیں ہے کیوں کہ شام ہو یا لبنان ، عراق ہویا فلسطین ہر جگہ اسلامی مبارزہ نے امت اسلامی کو زندہ کیا ہوا ہے۔
جھاد مغنیہ اس وقت جوانوں کے لیے نمونہ عمل بن چکے ہیں جس کی وجہ انہوں نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جس نے استقامت اور جھاد کی راہ میں بہت سی قربانیاں دیں ہے اور ایسے ماحول میں تربیت پائی جس کا ہر فرد جھاد اور مقامت کے جزبہ سے سرشار ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس