تاریخ شائع کریں۲۲ بهمن ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۳:۴۷
خبر کا کوڈ : 401697

ولی عہد نے خاشقجی کے قتل کا حکم نہیں دیا کوئی آفیشل آپریشن نہیں تھا

سعودی عرب کےوزیرخارجہ عادل الجبیر نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا
سعودی عرب کےوزیرخارجہ عادل الجبیر نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ صحافی جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے
ولی عہد نے خاشقجی کے قتل کا حکم نہیں دیا کوئی آفیشل آپریشن نہیں تھا
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر مضحکہ خیز اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کےوزیرخارجہ عادل الجبیر نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انھیں نہیں معلوم کہ صحافی جمال خاشقجی کی لاش کہاں ہے۔؟

سعودی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ولی عہد نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم نہیں دیا، یہ سرکاری آپریشن نہیں تھا۔

عادل الجبیر نے مزید کہا کہ صحافی کے قتل پر گیارہ افراد پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے جبکہ گرفتار افراد سے صحافی جمال خاشقجی کی لاش سے متعلق تفتیش کی جارہی ہے۔

سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر نے جمال خاشقجی کے قتل میں بن سلمان کے ملوث نہ ہونے کا دعوی ایسے میں کیا ہے کہ جب حال ہی میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں قتل سے ایک برس قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے خلاف ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی تھی۔ امریکی قانون سازوں نے اس نئے انکشاف کے بعد جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی عرب کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سمجھتی ہے کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی ولیعہد جمال خاشقجی کے قتل کے لیے تیار تھے۔

دی ٹائمز کے مطابق یہ بات امریکا کی قومی سیکیورٹی ایجنسی اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے معمول کی کارروائی کے دوران اتحادیوں سمیت عالمی رہنماؤں کی بات چیت سننے اور جمع کرنے کے تحت ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس بات چیت کو حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد کے ملوث ہونے سے متعلق ٹھوس شواہد کی تلاش کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔ اخبار کے مطابق یہ بات سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے ماتحت ترکی الدخیل کے درمیان ستمبر 2017 میں جمال خاشقجی کے قتل سے 13 ماہ قبل ہوئی تھی۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ اگر جمال خاشقجی سعودی عرب واپس نہیں آتے تو انہیں طاقت کے زور پر واپس لایا جائے گا اور اگر ان میں سے کوئی طریقہ کام نہیں کرتا تو پھر ہم ان کے خلاف ہتھیار کا استعمال کریںگے ۔ یہ بات اس وقت کی گئی تھی جب سعودی حکام جمال خاشقجی کی تنقید پر کافی برہم تھے اور اسی ماہ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ کے لیے کالم نگاری کا آغاز کیا تھا۔

واضح رہے کہ 2 اکتوبر 2018 کو جمال خاشقجی اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں رہے جب وہ ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی عرب کے قونصل خانے میں داخل ہوئے لیکن واپس نہیں آئے، بعد ازاں ان کے حوالے سے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں قونصل خانے میں ہی قتل کر دیا گیا۔ اس کے بعد 20 اکتوبر کو سعودی عرب نے باضابطہ طور پر یہ اعتراف کیا تھا کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے کے اندرقتل کردیا گیا۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والے جمال خاشقجی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے ناقد تھے اور اسی سلسلے میں انہوں نے سعودی عرب سے امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر رکھی تھی۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس