تاریخ شائع کریں۲۰ بهمن ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۳:۴۸
خبر کا کوڈ : 401439

جگر گوشہ رسول اللہ ﷺ کی شہادت پر عزاداری آل خلیفہ کو برداشت نہ ہوسکی

بحرینی حکومت کے کارندوں نے مختلف شہروں میں نصب کئے گئے سیاہ پرچم اور بینروں کو پھاڑدیا
دختر رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے ایام شہادت کے موقع پر بحرینی حکومت کے کارندوں نے مختلف شہروں میں نصب کئے گئے سیاہ پرچم اور بینروں کو پھاڑدیا اور اسلامی مقدسات کی توہین کی
جگر گوشہ رسول اللہ ﷺ کی شہادت پر عزاداری آل خلیفہ کو برداشت نہ ہوسکی
دختر رسول حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے ایام شہادت کے موقع پر بحرینی حکومت کے کارندوں نے مختلف شہروں میں نصب کئے گئے سیاہ پرچم اور بینروں کو پھاڑدیا اور اسلامی مقدسات کی توہین کی۔

بحرین کی آل خلیفہ حکومت کے کارندوں نے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے ایام شہادت کی مناسبت سے لگائے بینروں اور سیاہ پرچم کو پھاڑنے کے ساتھ ساتھ ان قناتوں کو بھی اکھاڑ دیا جہاں مجالس عزا ہو رہی تھیں۔
دوہزار گیارہ میں بحرینی حکومت کے ہاتھوں اڑتیس مساجد کی شہادت اور متعدد امامبارگاہوں کی مسماری کے بعد سے آل خلیفہ حکومت کے کارندے ہر سال محرم و صفر اور ایام فاطمیہ میں شیعہ مسلمانوں کے عزاداری کےاجتماعات اور مجالس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ اس موقع پر نصب کئے جانے والے بینروں اور پرچموں کو جن پر آیات و احادیث بھی لکھی ہوئی ہوتی ہیں پھاڑ دیتے ہیں اور اسلامی مقدسات کی اہانت کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بحرین میں عوام کی مذہبی آزادی پر آل خلیفہ حکومت بار بار حملے کر رہی ہے جو انسانی حقوق کی صریحی خلاف ورزی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے گذشتہ اٹھارہ مہینے میں ایسی متعدد رپورٹیں جاری کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں شہریوں کی مذہبی آزادی کے حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں مذہبی آزادی پر حملے کا منفی اثر مرتب ہوتا ہے۔
بحرین میں فروری دوہزار گیارہ سے عوام کی پرامن تحریک جاری ہے۔ بحرینی عوام اپنے ملک میں آزادی، جمہوریت اور سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس