تاریخ شائع کریں۱۹ بهمن ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۰۸
خبر کا کوڈ : 401363

امریکا نے صیہونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی درخواست کو مسترد کردیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک بیان جاری کرنا چاہتی تھی
امریکا نے صیہونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان کے مسودے کو روک دیا ہے جو تل ابیب انتظامیہ کے ذریعے الخلیل سے اقوام متحدہ کے مبصرین کو نکالنے کی مذمت میں تیار کیا گیا تھا
امریکا نے صیہونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی درخواست کو مسترد کردیا
امریکا نے صیہونی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیان کے مسودے کو روک دیا ہے جو تل ابیب انتظامیہ کے ذریعے الخلیل سے اقوام متحدہ کے مبصرین کو نکالنے کی مذمت میں تیار کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک بیان جاری کرنا چاہتی تھی جس میں غرب اردن کے شہر الخلیل سے اقوام متحدہ کے مبصرین کو نکال دینے کے اسرائیل کے خودسرانہ اقدام پر تنقید کی گئی تھی۔
صیہونی حکومت کے وزیراعظم نتن یاہو نے گذشتہ پیر کو اعلان کیا تھا کہ اب الخلیل میں اقوام متحدہ کے مبصرین کی تعیناتی کی مدت میں توسیع نہیں کی جائے گی۔
اقوام متحدہ نے انیس سو چورانوے میں غرب اردن کے شہر الخلیل کی مسجدابراہیمی میں ایک انتہا پسند صیہونی کے ہاتھوں تیس فلسطینی نمازیوں کے قتل عام کے بعد اپنے مبصرین اس شہر میں تعینات کئے تھے۔ اس علاقے میں اقوام متحدہ کے مبصرین کی تعیناتی کا معاہدہ فلسطینی انتظامیہ اور صیہونی حکومت کے درمیان ہوا تھا جس کا نام تیف ہے۔
ناروے نے بھی جو گذشتہ بائیس برس سے اقوام متحدہ کے اس مشن کا سربراہ رہا ہے اسرائیل کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب انتظامیہ کے اس اقدام کا مطلب اوسلو معاہدے کے ایک بڑے حصے کی خلاف ورزی ہے۔
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس